تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 201 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 201

تاریخ احمدیت۔جلد 24 201 سال 1967ء الاحمد یہ ربوہ کی طرف سے منعقد کی گئی۔اس موقعہ پر سردار مقبول احمد صاحب ذبیح مہتم مقامی نے سپاسنامہ پیش کیا۔جس کے بعد حضور نے خدام کو زریں نصائح سے سرفراز فرمایا اور انہیں تلقین فرمائی کہ حضرت مصلح موعود نے جو سبق تمہیں دیئے تھے انہیں ہر وقت اپنے پیش نظر رکھو اور خلافت سے وابستگی ، انتہائی محنت، دیانتداری اور عاجزانہ راہوں کو اپنا شعار بنالو۔حضور نے فرمایا:۔” جو نظارے اور واقعات میں نے یورپ کے ان ملکوں میں دیکھے ہیں۔جن کے دورہ سے ابھی میں واپس آیا ہوں اس کے نتیجے میں، میں اس یقین سے پُر ہوں کہ وہ وقت زیادہ دور نہیں۔جب ہمارے نوجوانوں کو بھی اور بڑوں کو بھی ، مردوں کو بھی اور عورتوں کو بھی اسلام کے استحکام اور اسلام کی اشاعت کے لئے اور توحید کے قیام کے لئے انتہائی قربانیاں دینی پڑیں گی اور میں اپنے رب سے امید رکھتا ہوں اور میں بہت کثرت سے یہ دعائیں کرتا ہوں کہ جب بھی وہ وقت آئے ہم میں سے کوئی بھی اپنے رب کے حضور شرمندہ نہ ہو بلکہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے انہیں کماحقہ ادا کرنے والا ہو۔اس تربیت کے لئے حضرت مصلح موعود نے آپ کو بہت سے اسباق دیئے ہیں جن میں سے چند ایک کا جو بنیادی حیثیت رکھتے ہیں ، میں اس وقت یہاں ذکر کرنا چاہتا ہوں۔لا پہلا سبق خلافت سے وابستگی کا تھا۔حملہ دوسرا سبق محنت کی ، انتہائی محنت کی عادت ڈالنے کا تھا۔ما تیسر اسبق دیانتداری کو قائم کرنے کا تھا۔چوتھا سبق جو تنظیم کے لئے حقیقتا بنیادی سبق ہے۔وہ یہ تھا کہ ہم میں سے ہر ایک نوجوان کو یہ سمجھ لینا چاہیئے کہ اس نے اپنی زندگی میں عاجزانہ راہوں کو اختیار کرنا اور خدا اور اس کے رسول کا ایک طرف اور بنی نوع انسان کا دوسری طرف ایک خادم بن کر زندگی کو گزارنا ہے۔پہلے سبق کے متعلق میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جب تک اللہ تعالیٰ کی منشاء اپنے سلسلہ میں خلافتِ راشدہ کو قائم رکھنے کی رہے۔اس وقت تک تمام برکتیں خلافت