تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 196 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 196

تاریخ احمدیت۔جلد 24 196 سال 1967ء ویژن کے سارے اسٹیشنوں پر دکھائی گئی ہے اس کے علاوہ انٹر نیشنل بک اپ کے ذریعہ یہ تصویر بعض دوسرے ملکوں میں بھی دکھائی گئی ہے۔افتتاح کے ساتویں روز مجھے نائیجیریا ( مغربی افریقہ) سے وہاں کے مبلغ انچارج کا خط آیا کہ ہم نے آپ کو افتتاح کے موقعہ پر ٹیلی ویژن پر دیکھا ہے اور ساری جماعت اس بات پر بڑی خوش ہے کہ افتتاح کا نظارہ یہاں مغربی افریقہ میں بھی پہنچ گیا۔مشرق وسطی کے عرب ممالک میں اس افتتاح کی ٹیلی ویژن کی ریل دکھائی جارہی ہے۔چنانچہ پرسوں ہی مجھے ڈنمارک سے امام کمال یوسف نے اطلاع دی کہ مرا کو میں تین دفعہ مسجد کے افتتاح کی خبر براڈ کاسٹ ہوئی ہے اور ابھی وہ انتظار کر رہے ہیں۔جوں جوں تصاویر ٹیلی ویژن پر دکھائی جائیں گی وہ کمپنی ان کو اطلاع دے گی کہ فلاں فلاں جگہ ریل دکھائی گئی ہے۔ایک دن بی بی سی کا نمائندہ آ گیا اور کہنے لگا میں نے آپ کا انٹرویو لینا ہے۔میں نے کہا تم جو سوال کرنا چاہتے ہو وہ مجھے بتا دو لیکن وہ کہنے لگا بتانے کی ضرورت نہیں میں سوال کرتا جاؤں گا اور آپ جواب دیتے چلے جائیں۔میں نے کہا ٹھیک ہے چنانچہ اس نے وہ انٹر ویولیا اور اس نے بتایا تھا کہ یہ انٹرویو بی بی سی سے دو دفعہ نشر ہوگا۔غرض اس طرح ساری دنیا میں اسلام کی آواز پہنچی اور اس پیغام کو لوگوں نے سنا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دنیا کی طرف لے کے آئے تھے۔یعنی اب اسلام کے غلبہ کا وقت آگیا ہے اور دنیا کی بھلائی اسی میں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اور اسلام پر ایمان لائے اور اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالے۔اللہ تعالیٰ نے اس آواز کو دنیا میں پھیلا دیا اور کروڑوں آدمیوں کے کانوں تک یہ آواز پہنچ گئی۔ہم شاید کروڑ روپیہ بھی خرچ کرتے تو اپنے طور پر اس قسم کی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے تھے جس کے سامان اللہ تعالیٰ نے خود بخود اپنی طرف سے پیدا کر دیئے۔میرا خیال ہے کہ شاید سارے سفر کے دوران پچاس ہزار سے زیادہ کیمروں نے ہماری تصویریں لی ہوں گی۔لوگ اپنے کام بھول کر ، اپنی سیر بھول کر ہماری