تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 187
تاریخ احمدیت۔جلد 24 187 سال 1967ء اور مجھے یقین ہے کہ تمہارے دل میں میری دشمنی، نفرت یا حقارت کا کوئی جذبہ نہیں اور اگر ہم یہاں اس کمرہ میں اس قسم کی فضا پیدا کر سکتے ہیں تو ساری دنیا میں بھی پیدا کر سکتے ہیں دوسرے دن اس نے اخبار میں بڑا اچھا نوٹ دے دیا۔ہمیں یہ خیال بھی نہیں تھا کہ اس قسم کا نوٹ اخبار میں آجائے گا۔ٹائمز کو اتنی اہمیت حاصل ہے کہ اگر اس میں کوئی چیز چھپ جائے تو اس کے متعلق یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ انگلستان کے سارے پر لیس میں وہ چیز آگئی۔بہر حال وہاں بھی اللہ تعالیٰ نے اعلاء کلمتہ اللہ کے سامان پیدا کر دئے۔“ پھر دورے سے واپسی پر پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: کراچی میں انٹرویو ہوا یہ لوگ اپنے رنگ کے ہیں یہ لوگ بار بار مجھ سے سیاسی سوال کر دیتے تھے اور بار بار مجھے یہ کہنا پڑتا تھا کہ میں کسی سیاسی سوال کا جواب نہیں دوں گا۔ویسے سب ہی اچھے تھے انہیں یہی اچھا معلوم ہوتا تھا کہ میں ان سے سیاسی گفتگو کروں ہر ایک کا اپنا اپنا خیال ہوتا ہے لیکن یہاں بھی اخبارات میں اچھے نوٹ آگئے تھے۔ان پریس کانفرنسز سے میری کوئی ذاتی غرض وابستہ نہ تھی میں نے صرف یہی مقصد اپنے سامنے رکھا تھا کہ ان لوگوں کو جھنجھوڑا جائے اور اسلام کے عالمگیر غلبہ کا آسمانوں پر جو فیصلہ ہو چکا ہے اس حقیقت کی طرف انہیں متوجہ کیا جائے اور یہ غرض اخباروں کے تعاون سے پوری ہوگئی اور یہ مقصد ہمیں حاصل ہو گیا۔ساری قوم کو انتباہ کر دیا گیا اس لحاظ سے کہ اکثریت کے کانوں میں یہ آواز پہنچ گئی اور یہ بات ان کے ذہن نشین کر دی گئی کہ ہمیں ایک انتباہ دیا گیا ہے اور ایک وارنگ دینے والے نے ہمیں وارننگ دے دی ہے۔“ حضور انور نے لندن میں ایک نہایت تاریخی اور جلالی خطاب فرمایا تھا جو بعد ازاں الگ صورت میں کتابی طور پر بھی بعنوان ”امن کا پیغام اور ایک حرف انتباہ " کے نام سے شائع ہوا۔اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: اس سارے عرصہ میں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سامعین مسحور ہیں کوئی آواز پیدا نہ ہوئی۔بعد میں احمدیوں نے مجھے بتایا کہ ہمیں پسینے آرہے تھے اس میں کوئی شک