تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 186
تاریخ احمدیت۔جلد 24 وو 186 سال 1967ء لنڈن کے پریس نے ہمارے ساتھ پہلے تو کوئی تعاون نہیں کیا۔یعنی انہوں نے ہمارے متعلق کوئی خبر نہیں دی۔صرف ایک اخبار نے خبر دی جس کا نمائندہ ایئر پورٹ پر آیا ہوا تھا اور اس سے گفتگو بھی ہوئی تھی۔لیکن عام طور پر پریس نے ہمیں نظر انداز کیا۔تین دن ہم وہاں رہے پھر ہم سکاٹ لینڈ چلے گئے وہاں بھی پریس کانفرنس ہوئی اور وہاں کی اخباروں نے خبریں بھی دیں۔اس کے بعد ہم چند روز ونڈ رمیر“ ٹھہرے اس دوران ایک مقامی اخبار نے امام رفیق (مسجد لنڈن کے امام) کو فون کیا اور کہا کہ لوگ پوچھتے ہیں کہ یہ کون لوگ ہیں جو ہمارے علاقہ میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔یہاں تو ایک ہنگامہ بپا ہے کہ مقامی اخبار نے کچھ لکھا نہیں اور لوگ حیران ہیں۔آخر انہیں پتہ لگنا چاہئے کہ یہ کون ہیں چنانچہ امام رفیق نے اسے بتایا اور اس نے اگلے روز ایک خبر شائع کر دی۔ابھی ہم ونڈر مئیر میں ہی تھے کہ ہمیں وہاں ایک پیغام ملا کہ ٹائمنز لندن سپیشل انٹرویو لینا چاہتا ہے۔میں نے کہا ٹھیک ہے لیکن وقت ہم وہاں مقرر کریں گے۔ٹائمنرلنڈن چوٹی کے اخباروں میں سے ہے دوست یہ نہ سمجھیں کہ میں چھوٹی چھوٹی باتوں کا ذکر کر رہا ہوں۔میرے نزدیک یہ باتیں بڑی اہم ہیں۔کیونکہ ان چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ہاتھ نظر آتا ہے۔ٹائمنر لنڈن کا جونو جوان نمائندہ انٹرویو لینے آیا۔وہ نوجوان بڑا عقلمند تھا اور زیرک تھا۔وہ مجھ سے مختلف باتیں کرتا رہا۔وہاں پریس کے نمائندے مجھے سیاست میں گھسیٹنے کی کوشش کرتے تھے لیکن یورپ کا پریس بڑا سمجھدار ہے جب میں ان سے کہہ دیتا تھا کہ مجھ سے صرف مذہبی باتیں کرو۔تو وہ اس پر زور نہیں دیتے تھے۔میں نے اس سے بھی کہا مجھ سے سیاست کی بات نہ کرو تو وہ رک گیا۔میں نے اس کو یہ بتایا کہ اسلام امن اور سلامتی کا مذہب۔۔نیز مذ ہب کا تعلق دل سے ہے اور دل کو طاقت کے ذریعہ بدلا نہیں جاسکتا۔مذہب کے نام پر خواہ مخواہ جھگڑ نا غیر معقول ہے۔اب ہم دونوں یہاں بیٹھے ہیں۔میں ایک مسلمان ہوں اور ایک مذہبی فرقہ کا سر براہ ہوں اور تم ایک عیسائی نو جوان ہو میرے دل میں تمہارے متعلق دشمنی نفرت کا یا حقارت کا کوئی جذ بہ نہیں