تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 185
تاریخ احمدیت۔جلد 24 185 سال 1967ء 66 میں جا رکھیں گے۔اس جواب کا اس پر اس قدر اثر ہوا کہ وہ پریس کانفرنس کے بعد بھی کافی دیر وہاں ٹھہری رہی۔اس نے ہمیں نماز پڑھتے دیکھا۔اس نے کہا کہ میں واپس جاکر ایک مضمون لکھوں گی۔خیر وہاں بھی پریس انٹرویو ہوا اور بڑا اچھا ہوا اور تمام اخبارات میں وہ چھپا۔“ کوپن ہیگن کے استقبالیہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: اس کارپوریشن کا جس کے علاقہ میں ہماری مسجد ہے الگ لارڈ مئیر ہے اس کے علاوہ ایک اور کار پوریشن ہے جس میں کو پن ہیگن کا پرانا شہر واقع ہے۔اس کی مئیر ایک عورت ہے ان دونوں کا رپوریشنوں نے ہمیں ریسیپشن دی ہوئی تھی۔ہمارے علاقہ کی کارپوریشن کا لارڈ میئر مشن سے اتنا تعلق رکھتا ہے کہ وہ چھٹیوں پر گیا ہوا تھا اور وہاں سے وہ صرف مسجد کے افتتاح میں شامل ہونے اور مجھے ریسیپشن دینے کے لئے واپس آیا اور بڑے پیار سے اس نے مجھ سے گفتگو کی۔میں نے اسے بتلایا کہ ہمارے احمدی مسلمان تمہاری کارپوریشن کے بہترین شہریوں میں سے ہوں گے کیونکہ ہمارا یہ مذہبی عقیدہ ہے کہ ہم ملکی قانون کی پابندی کریں اور اسلام نے ہمیں یہی سکھایا ہے۔لارڈ میئر نے ہمیں اپنی کارپوریشن کا جھنڈا دیا اور ہم نے اسے قرآن کریم دیا۔پھر ہم دوسری کارپوریشن کی طرف سے دی ہوئی ریسیپشن میں شریک ہوئے اس میں لارڈ میئرس نے ہمیں اپنی کارپوریشن سے متعلق ایک معلوماتی کتاب دی اور ہم نے اس کو قرآن کریم پیش کیا۔باتیں بھی ہوتی رہیں۔اس موقعہ پر پریس کے نمائندہ بھی موجود تھے۔اگلے دن اس ریسیپشن کی تصویر بھی اخباروں میں آگئی۔جس میں لارڈ مئیرس کو قرآن کریم وصول کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ایک اخبار نویس نے شرارتا اسے کہا کہ انہوں نے تم کو اپنا ہاتھ نہیں دیا۔یعنی مصافحہ نہیں کیا۔وہ عورت پڑھی لکھی تھی اور بڑی ہوشیار تھی۔اس نے فوراً یہ جواب دیا کہ انہوں نے مجھے اپنا ہاتھ تو نہیں دیا۔لیکن مجھے قرآن کریم دیا ہے۔اور اگلے دن اس کا یہ فقرہ بھی اخباروں میں چھپ گیا۔“ پھر حضور انور نے اپنے دورہ انگلستان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: