تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 184 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 184

تاریخ احمدیت۔جلد 24 184 سال 1967ء پھر الیکٹرانک میڈیا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ہیمبرگ کے ٹیلی ویژن کو ایک کروڑ سے زائد آدمی دیکھتے ہیں جرمنی کے چھوٹے چھوٹے کئی صوبے ہیں اور ہیمبرگ کا ٹیلی ویژن تین چار صوبوں میں دیکھا جاتا ہے ہیمبرگ کا ٹیلی ویژن جس علاقہ میں دیکھا جا سکتا ہے۔اس کے متعلق اندازہ ہے کہ اس میں اسے ایک کروڑ سے زیادہ آدمی دیکھتے ہیں۔ہم نے اس میں چالیس فیصدی کاٹ دیا کہ بہت سے لوگ باہر گئے ہوئے ہوتے ہیں۔بعض لوگ سیر وسیاحت کے لئے گھروں سے نکلے ہوئے ہوتے ہیں پھر بھی ۷۰،۶۰ لاکھ کے درمیان لوگوں نے ہمیں ٹیلی ویژن پر دیکھ لیا اور جو باتیں وہاں ہوئیں تھیں کہ اسلام لاؤ اور اپنے اللہ کی معرفت حاصل کرو۔یہ پیغام براڈ کاسٹ بھی ہو گیا اور پھر سارے اخباروں میں بھی آگیا۔اخباروں کی وجہ سے شہر میں ہمارا اس طرح چرچا ہوا کہ ہمارے لئے باہر نکلنا مشکل ہو گیا۔دو ایک بار ہم بازار میں گئے تو جہاں تک نظر جاتی تھی مرد عورتیں اور بچے اپنا کام کاج چھوڑ کر ہماری طرف دیکھنے لگ جاتے تھے اور سینکڑوں کیمرے نکل آتے تھے جس دکان میں بھی جاؤ سودے کے متعلق بات بعد میں ہوتی پہلے اخبار ہمارے سامنے کر دیا جاتا تھا اور اس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ وہ ہمیں جانتے ہیں اور اس بات کا اظہار وہ بڑی خوشی اور بشاشت سے کرتے تھے۔میرا بتانے کا یہ مطلب ہے کہ ہر گھر میں ہمارا یہ پیغام پہنچ گیا کہ اسلام لا و یا تباہ ہو جاؤ۔کیونکہ میری باتوں کا خلاصہ یہی تھا کہ اپنے رب سے تعلق پیدا کرو ورنہ تباہی تمہارے سامنے ہے۔“ اس کے بعد حضور نے کوپن ہیگن میں پریس کے رویے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: " کوپن ہیگن کی پریس کانفرنس میں بھی ایک نمائندہ نے سوال کر دیا کہ آپ ہمارے ملک میں اسلام کو کیسے پھیلائیں گے۔میں نے اسے کہا کہ بالکل یہی سوال زیورک میں ایک عورت نے کیا تھا اور میں نے اسے یہ جواب دیا تھا کہ دلوں کو فتح کر کے۔اس جواب پر ایک عورت نمائندہ بڑے وقار سے کہنے لگی کہ ان دلوں کو لے کر آپ کیا کریں گے؟ میں نے اسے جواب دیا کہ پیدا کرنے والے رب کے قدموں