تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 182 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 182

تاریخ احمدیت۔جلد 24 182 سال 1967ء میں دے دیا اور کہا یہ ہے حوالہ۔اس نے اسے پڑھا تو کہا میں نے اسے نقل کرنا ہے۔میں نے کہا بڑی خوشی سے نقل کرو اور اگلے دن اس اخبار میں ، جس میں اسلام کے حق میں کبھی ایک لفظ بھی نہیں چھپا تھا ایک لمبا نوٹ چھپا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ ساری عبارت بھی نقل کر دی گئی۔اس نے لکھا کہ آپ کا دعوی تھا اور آپ نے فرمایا تھا کہ میں اس غرض کے لئے مبعوث کیا گیا ہوں کہ اس صلیب کو دلائل کے ساتھ توڑ دوں جس نے مسیح کی ہڈیوں کو توڑا تھا اور آپ کے جسم کو زخمی کیا تھا۔چنانچہ اس نے پورا پورا حوالہ شائع کیا۔سارے حیران تھے اور کہتے تھے کہ ہمیں تو کوئی توقع نہیں تھی کہ اس قسم کی پریس کانفرنس ہو سکتی ہے۔سارے اخباروں میں خبریں شائع ہوئیں۔ان میں سے کسی نے مسجد کی فوٹو دی اور کسی نے نہ دی۔لیکن ہمارے فوٹو کے ساتھ نوٹ شائع کئے۔غالبا مسجد کی فوٹو اس لئے شائع نہ کی گئی کہ اس کے فوٹو اخبارات میں آچکے ہیں اور وہ پرانی مسجد ہے۔“ اس کے بعد حضور نے ہیگ میں آمد کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: اس کے بعد ہم ہیگ پہنچے۔وہاں حافظ قدرت اللہ صاحب مجھے کہنے لگے کہ یورپ کے دوسرے ملکوں کی نسبت یہاں مسلمانوں اور اسلام کے خلاف تعصب بہت زیادہ ہے اور میں ڈر رہا ہوں پتہ نہیں پریس کانفرنس میں کیا ہوگا اور غالبا میں نے ان سے ہی کہا تھا کہ آپ فکر نہ کریں۔سوال مجھ سے ہونے ہیں اور میں نے ہی ان کے جواب دینے ہیں۔وہاں بھی پریس والوں نے بڑے ادب اور احترام کے ساتھ مجھ سے باتیں کیں۔ایک نوجوان جو بڑا لمبا اور صحت والا تھا اور غالبا کسی کیتھولک اخبار کے ساتھ تعلق رکھتا تھا۔اس نے ایک سوال کیا۔سوال تو اس نے بڑے ادب سے کیا لیکن اس کی آنکھوں میں شوخی تھی وہ نو جوان کہنے لگا آپ مجھے یہ بتائیں کہ آپ نے ہمارے ملک میں کتنے مسلمان کئے ہیں۔غالباً اسے علم تھا کہ یہاں احمدی تھوڑی تعداد میں ہیں۔میں نے اس کو کہا کہ تمہارے نزدیک مسیح علیہ السلام کی جتنی زندگی تھی گو اس مسئلے میں ہمارا اور تمہارا اختلاف ہے لیکن میں اس وقت اُس اختلاف کو چھوڑتا ہوں۔تمہارے خیال میں جتنے سال مسیح علیہ السلام اس دنیا