تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 176
تاریخ احمدیت۔جلد 24 176 سال 1967ء آکسفورڈ کی جماعت کے ایک دوست نے ۱۰ شلنگ کا نوٹ حضور کے سامنے کیا کہ اس پر حضور دستخط فرما دیں۔حضور نے فرمایا کہ میں تمہارے نوٹ پر کیوں دستخط کروں۔اس پر اپنی جیب سے دس شلنگ کا نوٹ نکال کر اس پر دستخط فرمائے۔اب کیا تھا دوستوں نے جیب سے نوٹ نکالنے شروع کئے۔لیکن حضور نے کسی کے نوٹ پر دستخط کرنے کی بجائے اپنے پاس جتنے نوٹ تھے اُن پر دستخط کر کے لوگوں کو دے دیئے۔انہی باتوں کا نتیجہ تھا کہ جماعت کے ہر فرد کے دل میں حضور کی بے پایاں محبت قائم ہوگئی۔بشیر احمد رفیق صاحب مزید تحریر فرماتے ہیں کہ حضور اقدس کی شخصیت سے صرف احمدی ہی متاثر نہ ہوئے بلکہ غیر بھی یکساں متاثر ہوئے۔ہڈرزفیلڈ میں حضور صرف چند گھنٹے ٹھہرے وہاں کے پریذیڈنٹ کمال الدین امینی صاحب نے مجھے ایک خط لکھا کہ: ”ہمارے شہر کے معززین جنہوں نے حضور انور کا بابرکت مسکراتا ہوا چہرہ دیکھا ہے بہت متاثر ہوئے ہیں اور آج تک حضور کی تعریفیں کر رہے ہیں۔ہمارے ہمسایہ میں ایک انگریز عورت ہے اس کا بیان ہے کہ میں نے اپنی گزشتہ ساٹھ سالہ زندگی میںاس محلہ میں ایسا نورانی چہرہ اور ایسی رونق نہیں دیکھی جیسی حضور کی آمد پر تھی۔“ اخبار ٹائمز جو انگلستان بلکہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ پڑھا جانے والا اخبار ہے، نے لکھا:۔"At 57 Caliph Ahmad is gentle of manner and has a kind smile۔" وو ستاون سال کے حضرت خلیفہ (مسیح) احمد نہایت اچھے اخلاق اور ایک مہربان مسکراہٹ کے مالک ہیں۔“ ) غرضیکہ حضور اقدس کا یہ دورہ انتہائی بابرکت کامیاب اور یورپ کے احمدیوں کے ازدیاد ایمان کا باعث ہوا۔145 حضور انور کا سفر یورپ اور پاکستانی پریس حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کے انقلاب انگیز سفر یورپ کے نہایت خوش گن اثرات و نتائج کا تذکرہ پاکستانی پریس نے بھی کیا۔۔میر پور خاص کے سندھی ہفت روزہ مہمدرد نے اا راگست ۱۹۶۷ء صفحہ ۴ پر امن جو پیغام“