تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 177
تاریخ احمدیت۔جلد 24 177 سال 1967ء (امن کا پیغام ) کے زیر عنوان ایک نوٹ شائع کیا جن کا ترجمہ درج ذیل کیا جاتا ہے:۔امام جماعت احمد یہ حافظ مرزا ناصر احمد صاحب ایم۔اے آکسن ایک ماہ کے تبلیغی دورہ کی غرض سے ۸ جولائی کو بذریعہ ہوائی جہاز یورپ روانہ ہوئے۔آپ کے اس سفر کا مقصد یہ ہے کہ وہاں تبلیغی مشنوں کا جائزہ لیں۔نیز اہلِ یورپ پر اتمام حجت کردیں کہ اب نجات محض اسلام کے دامن میں ہی حاصل ہو سکتی ہے۔آپ کے ہمراہ بیرونی ممالک میں احمد یہ مشنوں کے انچارج مرزا مبارک احمد صاحب بھی ہیں۔آپ کراچی سے فرینکفورٹ (مغربی جرمنی ) پہنچے۔پھر زیورک ( سوئٹزر لینڈ ) تشریف لے گئے۔وہاں کے ریڈیو نے امام صاحب کا خصوصی انٹرویو نشر کیا اور ٹیلی وژن پر مناظر دکھائے گئے۔پھر ہمبرگ تشریف لے گئے۔کئی لوگ حلقہ بگوش اسلام بھی ہوئے۔اسی طرح آپ ہالینڈ بھی تشریف لے گئے۔ہمبرگ سے کوپن ہیگن تشریف لے گئے۔وہاں آپ نے عورتوں کے چندہ سے بنی ہوئی مسجد کا ۲۱ جولائی بروز جمعہ افتتاح فرمایا۔ہزاروں افراد مسجد کو دیکھنے آئے۔وہاں سے آپ لندن پہنچے۔لندن میں اخباری نمائندوں کو بتایا۔”امن کے امکانات مشتبہ ہیں۔جب تک انسان اپنے خالق کی طرف رجوع نہیں کریگا اور اس سے زندہ تعلق قائم نہیں کرے گا۔دنیا ہولناک تباہی کی طرف بڑھتی چلی جائے گی۔“ آپ لنڈن سے گلاسگو تشریف لے گئے۔ایک ماہ کے کامیاب دورہ کے بعد حضرت امام صاحب واپس پاکستان تشریف لا رہے ہیں۔آپ نے اہلِ یورپ پر انذاری طور پر اتمام حجت کردی ہے اور عیسائیوں پر واضح کر دیا ہے کہ دنیا اگر امن چاہتی ہے تو اسلام کے دامن میں آجائے۔یا تو اسلام قبول کر لواور خدا کے حضور جھک جاؤ۔ورنہ تباہ ہو جاؤ گے۔روز نامہ شہباز پشاور میں ۷ ار ا گست ۱۹۶۷ء کو حسب ذیل خبر شائع ہوئی۔پشاور ۱۶ را گست مرزا عبدالحق صاحب ایڈووکیٹ سرگودھا امیر سابق صوبہ پنجاب جماعت احمدیہ نے آج یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعتِ احمدیہ کے قیام کی غرض اسلام کو از سر نو زندہ کرنا اور اسے دنیا میں پھیلانا ہے اس کے زندہ کرنے سے یہ مراد ہے کہ مرور زمانہ سے جو غلطیاں اس میں داخل کر دی گئی ہیں۔ان سے اسے پاک کیا جائے۔اور ہمارے پیارے آقا