تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 175 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 175

تاریخ احمدیت۔جلد 24 175 سال 1967ء وا پس مشن ہاؤس تشریف لا کر پھر ملاقاتیں اور احباب کی محفل میں تشریف فرمائی۔یہ تھا حضور کا معمول جب تک حضور انگلستان میں مقیم رہے۔مکرم امام بشیر احمد رفیق صاحب کہتے ہیں کہ بعض باتیں خواہ بظاہر چھوٹی نظر آئیں لیکن اُن کے اظہار سے اس عظیم شخصیت کی محبت اور شفقت کے بے پایاں سمندر کا اندازہ ہوتا ہے۔خاکسار کی بیٹی جمیلہ حضور کے قیام کے دنوں میں بیمار ہو کر ہسپتال میں داخل ہوگئی۔مجھے طبعی طور پر بے حد گھبراہٹ تھی۔میں نے شام کے وقت حضور کی خدمت میں دعا کے لئے عرض کیا۔حضور نے بڑے وثوق سے فرمایا فکر نہ کرو بچی کو اللہ تعالیٰ صحت عطا فرمائے گا۔اُس رات بچی ایک رنگ میں موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا تھی۔آکسیجن منٹ میں ساری رات رہی۔اگلے دن صبح حضرت بیگم صاحبہ نے مجھ سے بچی کی صحت کے متعلق دریافت فرماتے ہوئے فرمایا۔کہ حضور کی جب بھی رات کو آنکھ کھلتی تھی تمہاری بچی کے لئے دعا کرتے تھے اور یہ حالت ساری رات رہی۔بچی کو خدا تعالیٰ نے حضور اقدس کی دعاؤں کے طفیل معجزانہ زندگی عطا فرمائی اور اب تندرست اور صحت مند ہے۔ایک طرف اتنا مصروف پروگرام اور دوسری طرف جماعت کے ایک ادنی ترین خادم کی بچی کے لئے اتنی دعا۔بچے کے کان میں اذان ایک اور بڑا دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہوئے جو حضور انور کی بے پایاں شفقت کا آئینہ دار ہے، لکھتے ہیں کہ ایک دن جب کہ دن بھر ایک سیکنڈ بھی حضور کو آرام نہ مل سکتا تھا۔سارا دن مصروفیت رہی شام کو ایک دوست میرے پاس آئے اور کہا کہ میرے ہاں لڑکا پیدا ہوا ہے اس کے کان میں اذان دلانی ہے آپ میرے ہاں چلیں۔میں نے کہا کہ یہاں بڑی مصروفیت ہے، آج تو مشکل ہے کل یا پرسوں وقت نکال کر چلیں گے۔کچھ دیر بعد حضور چند منٹ کے لئے نیچے تشریف لائے۔یہ شخص بھی موجود تھا اس نے حضور کی خدمت میں بچے کی پیدائش کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی کہہ دیا کہ حضور اگر بچے کے کان میں اذان دیں تو بڑا احسان ہوگا۔حضور کا سارا دن بہت ہی مشغول گزرا تھا اور اس وقت بھی ضروری کام کے سلسلہ میں تشریف لائے تھے لیکن ایک احمدی دوست کی درخواست رد نہ فرمائی۔مجھے اُسی وقت حکم فرمایا کہ کار تیار کرو میں اس کے ساتھ جاؤں گا۔سب تو حیران ہو ہی گئے مگر جس دوست نے درخواست کی تھی اس کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔اس کے تو وہم گمان میں نہ تھا کہ خدا تعالیٰ کا خلیفہ اس کے بچے کو یہ سعادت بخشے گا۔حضور کا بار بار انکسار اور فروتنی کا اظہار یہاں لوگوں کے دلوں پر جادو کا اثر کر گیا۔