تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 162
تاریخ احمدیت۔جلد 24 162 سال 1967ء اُٹھی۔جب گاڑی روانہ ہوئی تو حضور نے ”السلام علیکم کہہ کر ہاتھ ہلایا اور احباب نے بھی ہاتھ ہلائے اور ”وعلیکم السلام کے ساتھ حضور کو رخصت کیا۔حضور بھی زیرلب دعا فرما رہے تھے اور احباب بھی حضور کے لیے دعائیں کرتے ہوئے لوٹے کہ اللہ تعالیٰ حضور کا بابرکت سایہ ہمارے سروں پر تادیر قائم رکھے۔آمین یا رب العالمین۔اس موقع پر حیدر آباد کے علاوہ اضلاع حیدر آباد اور تھر پارکر کی جماعتوں کے احباب بھی بکثرت تشریف لائے ہوئے تھے حالانکہ شدید بارش ہو چکی تھی اور موسم بھی ابر آلود تھا۔حیدر آباد سے چنیوٹ تک حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کا بیان ہے کہ: 141 گاڑی کچھ لیٹ بھی تھی۔اردگرد کے احباب کثیر تعداد میں حاضر تھے۔حضور نے سب سے مصافحہ فرمایا۔ہمیں دیکھ دیکھ کر حیرت ہو رہی تھی کہ حضور قریباً سب دوستوں کو جانتے ہیں۔مربی حیدر آباد مولانا غلام احمد صاحب فرخ کو بہت کم ضرورت پیش آئی کہ مصافحہ کرنے والے دوست کا تعارف کرائیں۔ہاں یہ بات نا قابل فراموش ہے کہ جب حضور انور سے پلیٹ فارم پر قدم رکھنے کے ساتھ عرض کیا گیا کہ اخبار نویس بھی انٹرویو لینے کے لئے حاضر ہیں۔تو حضور نے فرمایا کہ جماعت مقدم ہے میں پہلے جماعت کے دوستوں سے مصافحہ کروں گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔پھر حضور نے آخر میں اخبار والوں کے جوابات بھی دئے اور وہ حضور کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر بھی باتیں کرتے رہے۔روہڑی میں صبح پانچ بجے گاڑی پہنچی وہاں پر محترم صوفی محمد رفیع صاحب امیر جماعت بہت سے دوستوں کے ساتھ ہمہ تن انتظار کھڑے تھے۔دوستوں کے ہاتھوں میں پھولوں کے ہار تھے۔ایک بڑی تعدا د سندھی احمدی مردوں اور خواتین کی ایسی تھی کہ جن کے متعلق مربی سلسلہ مولوی محمد عمر صاحب بی۔اے نے بتایا کہ یہ ساری رات جاگتے رہے ہیں اور برانچ لائنوں سے حضور کی زیارت کے لئے حاضر ہوئے ہیں۔حضور انور نے ہر چھوٹے بڑے، بچے بوڑھے سے نہایت پیار سے مصافحہ فرمایا۔خواتین کو السلام علیکم کہا اور سب کے لئے دعا فرمائی۔یوں دعا کے لئے ہاتھ اٹھا نالازمی نہیں۔مومن کا دل ہر لمحہ آستانہ الوہیت پر گداز ہوتا ہے۔اس سفر میں حضور انور نے اکثر جماعتوں کے لئے سٹیشنوں پر ہاتھ اُٹھا کر بھی دعا فرمائی۔حضور کی دعا کے بعد احباب کے چہروں پر مسرت و انبساط کی خاص لہر