تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 161
تاریخ احمدیت۔جلد 24 161 سال 1967ء نے سب حاضرین سمیت ہاتھ اُٹھا کر دعا کی اور گاڑی نعرہ ہائے تکبیر میں سوئے ربوہ روانہ ہوئی۔چھاؤنی کے سٹیشن پر بھی دوست شرفِ زیارت کے لئے حاضر تھے۔اس کے بعد اہم مقام کوٹری اور حیدر آباد تھے۔140 کوٹری اور حیدر آبا داسٹیشن ۲۳ اگست کو احباب جماعت حیدر آباد مرد اور عورتیں، بچے بوڑھے اور جوان اپنے محبوب امام کی سفر یورپ سے کامیاب و با مراد مراجعت پر زیارت کے لیے کوٹری سٹیشن پر دو گھنٹے قبل ہی جمع ہونے شروع ہو گئے۔گاڑی اپنے مقررہ وقت سے چند منٹ دیر سے پہنچی احباب اشتیاق کے عالم میں حضور کے کمپارٹمنٹ کی طرف بڑھے۔جو نہی حضور کی زیارت ہوئی سب کے دل سرور سے بھر گئے۔دوستوں کے اشتیاق کو دیکھ کر حضور گاڑی سے اتر کر پلیٹ فارم پر تشریف لے آئے۔اور باری باری تمام احباب سے مصافحہ فرمایا اور گفتگو فرمائی۔احباب نے اپنے اپنے حالات عرض کیے اور دعا کے لئے درخواستیں پیش کیں۔اس موقعہ پر پریس کے نمائندگان بھی آئے ہوئے تھے جن میں ریڈیو پاکستان حیدر آباد، روز نامہ انڈس ٹائمنر (انگریزی)، روزنامه عبرت (سندھی)، روزنامہ نواء سندھ (سندھی) اور روزنامہ خادم وطن (سندھی) کے نمائندگان قابل ذکر ہیں۔حضور نے انکو بھی شرف مصافحہ بخشا اور ان کے سوالات کے جواب دیئے۔حضور نے اس موقعہ پر اپنے دورہ کے خوشکن نتائج کا بھی ذکر فرمایا اور بتایا کہ اس وقت یورپ کے ان ممالک میں اسلام کے متعلق غلط فہمیوں کو دور کرنے اور اسلام کی صحیح تعلیم پھیلانے کی بڑی ضرورت ہے وہاں کے اسلام قبول کرنے والے نومسلموں کے بارے میں آپ نے فرمایا کہ ان کے دلوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنے مسلمان بھائیوں کی محبت کے جذبات اسی طرح موجزن ہیں جس طرح کہ ہمارے دلوں میں۔گاڑی پچیس منٹ کے قریب ٹھہری۔کوٹری سے گاڑی روانہ ہوکر حیدر آبا داسٹیشن پر آ کر رکی۔دور ونزدیک سے آئے ہوئے دوست یہاں بھی جمع تھے۔حضور نے یہاں بھی احباب کو شرف مصافحہ بخشا۔احباب نے خوشی وامتنان کے جذبات سے معمور ہوکر بے اختیار اللہ اکبر۔اسلام زندہ باد۔پاکستان زندہ باد۔اور حضرت خلیفہ المسیح الثالث زندہ باد کے نعرے لگائے۔جن سے فضا گونج