تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 152
تاریخ احمدیت۔جلد 24 152 سال 1967ء بریڈ فورڈ اور ہڈرزفیلڈ میں تشریف آوری سکاٹ لینڈ میں چند روزہ قیام اور گلاسگو میں مسجد کے لئے زمین خریدنے کی ہدایات دینے کے بعد حضور بریڈ فورڈ سے ہوتے ہوئے ہڈرزفیلڈ تشریف لائے۔جہاں حضور نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب فرمایا اور دعاؤں کی قبولیت کے بارے میں عیسائی چرچ کو دعوت مقابلہ دی۔130 بخیریت لنڈن واپسی سکاٹ لینڈ ، بریڈ فورڈ اور ہڈرزفیلڈ کے کامیاب دورہ کے بعد حضور ۹ راگست کی شام کو بخیریت لنڈن واپس تشریف لے آئے۔131- انفرادی ملاقاتیں اور بعض ایمان افروز واقعات کا بیان ۱۰ را گست ۱۹۶۷ء کے دن کا پہلا حصہ انفرادی ملاقاتوں کے لئے مخصوص تھا۔مخلصین جماعت انگلینڈ کے دور ونزدیک سے پروانہ وار حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضور سے شرف ملاقات حاصل کرتے رہے۔ملاقاتیں تقریباً ڈیڑھ بجے تک جاری رہیں۔ان انفرادی ملاقاتوں کے اختتام پر حضور ویٹنگ روم سے باہر تشریف لائے۔اسی اثناء میں ایک دوست نے عرض کی کہ حضور اس سے قبل میں نے حصول اولاد کے لئے دُعا کی درخواست کی تھی۔اور اس کے نتیجہ میں میرے ہاں دولڑ کیاں پیدا ہوئیں۔لیکن اولاد نرینہ نہیں ہوئی۔میرا خیال ہے کہ اگر میں نے حصول اولاد کی بجائے اولاد نرینہ کے لئے دعا کی درخواست کی ہوتی تو خدا تعالیٰ مجھے لڑ کا عنایت فرماتا اب حضور دعا فرماویں کہ خدا تعالیٰ مجھے لڑکا دے۔حضور نے از راہ شفقت فرمایا کہ ”میں دعا کروں گا کسی دوست نے عرض کی کہ حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے فرمایا ہے کہ اگر لڑ کی کا نام بشری رکھا جائے تو اس کے بعد لڑکا پیدا ہوتا ہے۔حضور نے فرمایا کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ اس طرح ضرور ہی لڑکا پیدا ہو۔خدا تعالی قادر اور غنی ہے۔خدا تعالیٰ کی قدرت کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے ایک دلچسپ واقعہ بیان فرمایا کہ کالج کے ایک کارکن کے ہاں شادی کے بعد قریباً اکیس سال تک کوئی بچہ پیدا نہ ہوا۔اور اتنی طویل مدت گزرنے کے بعد ایک مرتبہ ان کی بیوی کے پیٹ میں کچھ تکلیف ہوئی۔ڈاکٹروں کو دکھایا گیا۔اور ان کی تشخیص ی تھی کہ پیٹ میں رسولی ہے۔اور اس کے علاج کے لئے بعض تیزر قسم کی ادویہ دیں۔یہ ایسی ادویہ تھیں