تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 153
تاریخ احمدیت۔جلد 24 153 سال 1967ء جو دورانِ حمل سخت مضر ہوتی ہیں۔اس کے بعد ایک اور ڈاکٹر نے ان کا معائنہ کیا اور کہا کہ پیٹ میں کوئی رسولی نہیں ہے بلکہ بچہ ہے۔اور اس کے کچھ عرصہ بعد بچہ ہونے کے آثار ظاہر ہونے شروع ہو گئے۔یہ خدا تعالیٰ کی ہی قدرت تھی کہ ان زود اثر ادویہ کے مضر اثرات سے اس خاتون کو محفوظ رکھا۔خدا تعالیٰ کی قدرت کے ایک اور نشان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ربوہ میں مجھے ایک شخص کا خط ملا کہ اس کے دو عزیزوں کو سزائے موت کا فیصلہ ہوا ہے۔اور اصل مجرم تو بچ گیا ہے۔لیکن ہم جو مجرم نہیں، انہیں سزا مل رہی ہے۔ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ نے بھی سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔بظاہر بچنے کے کوئی امکانات نہیں ہیں۔اب ہم رحم کی اپیل کر رہے ہیں۔حضور ہمارے لئے دعا فرما دیں۔میں نے جب یہ خط پڑھا تو اس کے جواب میں یہ لکھنے لگا کہ خدا تعالیٰ کی رضا پر راضی رہو۔لیکن معا کسی غیبی طاقت نے مجھے اپنے تصرف میں لے لیا اور میرے قلم سے جو الفاظ لکھے جانے والے تھے میں اُن کے لکھنے سے رک گیا۔اور مجھے یہ خیال آیا کہ میرے ان الفاظ سے کہیں یہ شخص یہ گمان نہ کرے کہ انتہائی مشکلات میں خدا تعالیٰ ان مشکلات کو دُور کرنے کی قدرت نہیں رکھتا۔چنانچہ میں نے انہیں لکھا کہ میں دعا کروں گا۔خدا تعالیٰ بڑا ہی قادر اور رحیم ہے۔اس کے ہاں کوئی بات انہونی نہیں۔مایوس نہ ہوں۔چند دنوں کے بعد مجھے اُن کا خط ملا کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے عدالت نے انہیں اس جرم سے بری الذمہ قرار دیا ہے۔132 بی بی سی کو انٹرویو اس گفتگو کے بعد حضور اپنی جائے رہائش تشریف لے گئے۔اڑھائی بجے حضور نے ظہر وعصر کی نمازیں پڑھائیں۔اس موقعہ پر ایک برطانوی فوٹوگرافر نے جو برطانیہ کی سب سے بڑی پریس ایسوسی ایشن کے نمائندہ تھے، حضور کی تصاویر لیں۔اسی پریس ایجنسی کا چیف رپورٹر بھی آیا ہوا تھا۔تین بجے کے قریب بی بی سی کے نمائندہ نے مشن ہاؤس میں حاضر ہو کر حضور کا انٹرویو لیا۔یہ انٹرویو اسی روز رات آٹھ بجے ریڈیو پر ریلے کیا گیا۔اس کے علاوہ یہ انٹرویو اار اگست کو بھی رات ایک بجے LOOK OUT PROGRAMME میں نشر ہوا۔138 تعلیم الاسلام سنڈے سکول میں دوبارہ تشریف آوری حضرت خلیفہ المسح الثالت ۱۳ را گست کو دو بار تعلیم الاسلام سنڈے سکول میں تشریف لائے اور