تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 146
تاریخ احمدیت۔جلد 24 146 سال 1967ء نہیں ہوا۔جب انتخاب ہو گیا اور کسی شخص نے مجھے آکر کہا کہ اٹھئے آپ کا انتخاب ہو گیا ہے تو پھر مجھے علم ہوا۔یہ کوئی معمولی چیز نہیں۔ایک آدمی جسے اُس وقت جماعت کوئی بہت بڑا بزرگ یا عالم یا بڑا آدمی نہ بجھتی تھی خدا تعالیٰ نے اسے اٹھایا اور کرسی خلافت پر بٹھا دیا۔اگر بندوں کے اختیار میں ہوتا تو جماعت جسے بزرگ سمجھتی تھی اُسے بٹھا دیتی لیکن خدا نے کہا کہ آج تمہاری نہیں چلے گی بلکہ میں ایک شخص کو جو تمہاری نظر میں کم تر اور نا کا رہ ہے اٹھاؤں گا یہ اُسی کی طاقت ہے نہ کسی انسان کی۔خلیفہ وقت کی طاقت کا راز یہ ہے کہ وہ اس یقین پر قائم ہوتا ہے کہ اُس کی اپنی کوئی طاقت نہیں۔خلیفہ وقت کے علم کا راز یہ ہے کہ وہ اس یقین پر قائم ہوتا ہے کہ میرا اپنا ذاتی کوئی علم نہیں۔میں نے گزشتہ دنوں مقاصد حج بیت اللہ سے متعلق جو آٹھ خطبات دیئے تھے جو انوار قرآنی کی شکل میں چھپ چکے ہیں۔یہ سارا علم خدا تعالیٰ نے مجھے ایک سیکنڈ میں دے دیا تھا۔ایک بجلی سی کوندی اور مجھے ساری سکیم سمجھا دی گئی۔ایک دوست نے مجھ سے پوچھا کہ ان خطبات کے تیار کرنے میں بڑی محنت کرنی پڑتی ہو گی۔میں نے کہا مجھے تو کوئی محنت نہیں کرنی پڑتی۔جب جمعہ آتا ہے تو خدا تعالیٰ خود مضمون میرے دل میں ڈال دیتا ہے۔ہاں اس علم کے بعد اقتباسات اور حوالہ جات حاصل کرنے میں کچھ محنت کرنی پڑتی ہے جس کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔اُس دن خدا تعالیٰ نے یہ ایک عجیب معجزہ دکھایا کہ میرے جیسے ناکارہ شخص کو جماعت کا خلیفہ بنا دیا۔فرشتوں نے ہر احمدی کے دل کو کھول دیا اور اس میں وہ محبت پیدا کر دی جو پہلے وہاں موجود نہیں تھی۔جب انتخاب ہو گیا تو مسجد سے باہر کھڑے ہوئے ہزاروں لوگ ایک دم اندر آنے شروع ہوئے اور ایک ابتری سی پیدا ہوگئی۔اس وقت میں نے اعلان کیا کہ بیٹھ جاؤ۔میری یہ آواز مسجد سے باہر لنگر خانہ تک پہنچی اور کھڑے ہوئے لوگ فوراً بیٹھ گئے۔مجھے خلافت کے انتخاب کے چھ سات مہینوں کے بعد لاہور سے ایک شخص کا