تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 140
تاریخ احمدیت۔جلد 24 140 سال 1967ء والو! کوئی مصنوعی خدا تمہاری مدد نہیں کرے گا۔میں شہروں کو گرتے دیکھتا ہوں اور آبادیوں کو ویران پاتا ہوں۔وہ واحد یگانہ ایک مدت تک خاموش رہا اور اس کی آنکھوں کے سامنے مکر وہ کام کئے گئے اور وہ چُپ رہا مگر اب وہ ہیبت کے ساتھ اپنا چہرہ دکھلائے گا۔جس کے کان سُننے کے ہوں سُنے کہ وہ وقت دور نہیں۔میں نے کوشش کی کہ خدا کی امان کے نیچے سب کو جمع کروں پر ضرور تھا کہ تقدیر کے نوشتے پورے ہوتے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس ملک کی نوبت بھی قریب آتی جاتی ہے۔نوح کا زمانہ تمہاری آنکھوں کے سامنے آجائے گا اور لوط کی زمین کا واقعہ تم بچشم خود دیکھ لو گے۔مگر خدا غضب میں دھیما ہے۔تو بہ کرو تا تم پر رحم کیا جائے۔جو خدا کو چھوڑتا ہے وہ ایک کیڑا ہے نہ کہ آدمی اور جو اُس سے نہیں ڈرتا وہ مُردہ ہے نہ کہ 766 زنده - 115 حضور کی یہ تقریر پینتالیس منٹ تک جاری رہی۔حاضرین نے اسے پوری دلجمعی سے گہرے انہماک کے عالم میں سُنا اور وہ بہت متاثر ہوئے سب نے حضور کی تقریر کو جو صاف گوئی ، خلوص اور جذبہ ہمدردی کی آئینہ دار تھی ، بہت پسند کیا اور سراہا۔اس نہایت تاریخی پر معارف اور جلالی خطاب کے بارے میں سید نا حضرت خلیفہ مسیح الثالث 116 نے ۲۰ /اکتوبر ۱۹۶۷ء کے خطبہ جمعہ میں بتایا:۔” میرا یہ مضمون تبلیغ کے لحاظ سے بڑا ہی مفید ثابت ہورہا ہے جو محض خدا تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے۔جب ہمارے گورنر جنرل گیمبیا نے یہ مضمون ریویو آف ریچز میں پڑھا تو انہوں نے مزید کا پیوں کی خواہش ظاہر کی۔کہ وہ اپنے دوستوں کو بھی یہ مضمون پڑھانا چاہتے ہیں۔کل ہی امام کمال یوسف کا ڈنمارک سے خط آیا ہے کہ افسوس ہے کہ ابھی تک اس مضمون کا ترجمہ ڈینش زبان میں نہیں ہو سکا۔لیکن ہر اس شخص نے جس کو ہم نے یہ مضمون پڑھایا ہے۔احمدی تھے یا غیر احمدی یا زیرتبلیغ عیسائی۔ہر ایک نے یہ مضمون پڑھنے کے بعد اس بات پر زور دیا ہے کہ اس مضمون کا جلد ترجمہ ہونا چاہئے۔۔۔۔۔میرے اس پیغام کے نتیجہ میں جماعت احمدیہ پر بھی جس کو اللہ تعالیٰ نے توفیق