تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 135
تاریخ احمدیت۔جلد 24 135 سال 1967ء شام لنڈن کے فضائی مستقر پر پہنچا۔انگلستان اور دوسرے علاقوں کے سینکڑوں مخلص احمدی ، جن میں حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب اور حضرت مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری بھی تھے ، حضور کے استقبال کے لئے موجود تھے۔حضور نے تمام اصحاب کو شرف مصافحہ عطا فرمایا۔لجنہ اماءاللہ انگلستان نے بھی خوش آمدید کہنے کی سعادت حاصل کی۔اخباری نمائندوں نے پر لیس ملاقات میں حضور سے امن کے امکانات کے بارے میں دریافت کیا۔حضور نے جواب دیا کہ مشتبہ ہیں۔حضور نے مزید فرمایا جب تک انسان اپنے خالق کی طرف رجوع نہیں کرے گا اور اس سے زندہ تعلق قائم نہیں کرے گا۔دُنیا ہولناک تباہی کی طرف بڑھتی چلی جائے گی۔انگلستان میں پہلا خطبہ جمعہ ۲۸ جولائی ۱۹۶۷ء کو سیدنا حضرت خلیفتہ امسح الثالث نے انگلستان میں پہلا خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔چنانچہ حضور نے مسجد فضل لندن میں احباب جماعت پر یہ حقیقت واضح فرمائی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس زمانہ کے حصن حصین ہیں۔جس میں داخلہ قرآن مجید سیکھنے اور اُس کی تعلیم پر کماحقہ عمل پیرا ہونے کے بغیر ممکن نہیں۔۔استقبالیہ اور تاریخی خطاب بعنوان ”امن کا پیغام اور ایک حرف انتباہ اسی شام حضور نے اس استقبالیہ میں شرکت فرمائی، جو حضور کے اعزاز میں وانڈ زورتھ ٹاؤن ہال لندن میں منعقد ہوا۔اس خصوصی تقریب میں وانڈ زور تھ کے میر سر ہیرالڈ ہیو جینکنز ہمبر پارلیمنٹ مسٹر ہیرلڈ ٹشو برٹ جو پاکستان سوسائٹی کے اعزازی سیکرٹری بھی ہیں محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب، سیرالیون ( مغربی افریقہ) کے ہائی کمشنر اور متعد د دوسری نامور شخصیتیں بھی شریک ہوئیں۔لارڈ میر سر ہیرلڈ ہیو جینکنز اور محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے اپنی تقریروں میں حضور کو خوش آمدید کہا۔14 حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے اس تاریخی تقریب میں امن کا پیغام اور ایک حرف انتباہ کے عنوان سے ایک پُر جلال تاریخی خطاب فرمایا۔جس کا چیدہ چیدہ ذکر درج ذیل ہے۔تشہد ، تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔احمد یہ جماعت کے امام کی حیثیت میں مجھے ایک روحانی مقام پر فائز