تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 134 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 134

تاریخ احمدیت۔جلد 24 134 سال 1967ء افتتاحی تقریب کا اس قدر چرچا ہوا کہ زائرین کا ایک تانتا بندھا رہا اور لوگ سینکڑوں کی تعداد میں خدا کا گھر دیکھنے کے لئے آتے رہے اور اس طرح اس ملک میں اسلام سے تعارف کا ایک وسیع راستہ کھل گیا۔0 110۔اسلام کے خلاف ایک اخبار کی پھیلائی ہوئی غلط فہمی اور اس کی معجزانہ تر دید کوپن ہیگن کے روز نامہ politiken “ نے اپنے ۲۲ جولائی ۱۹۶۷ء کے شمارہ میں اسلام کے خلاف یہ غلط فہمی پھیلائی کہ اس نے مسجد کے افتتاح کی رپورٹ اس انداز سے مرتب کی کہ جس سے یہ اثر پڑے کہ گویا مسلمان خدائے واحد کی نہیں بلکہ نعوذ باللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتے ہیں۔اسی طرح اس نے مسجد میں پہلی نماز جمعہ کی جو تصویر شائع کی اس کے نیچے اس مفہوم کی عبارت درج کی کہ ڈینش مسلمان محمد ﷺ کی عبادت کرنے میں مصروف ہیں۔ظاہر ہے یہ بات بالبداہت غلط ہے اور اس غلط فہمی کا ازالہ ضروری تھا۔چنانچہ اگلے ہی روز جب بارہ نامی گرامی پادریوں کا ایک وفد سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث سے تبادلہ خیالات کرنے آیا تو حضور نے ان کو اس طرف توجہ دلائی جس پر وہ بہت شرمندہ ہوئے اور انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ خود اس کی تردید شائع کرا دیں گے۔ادھر اللہ تعالی نے وہاں کی ایک اہل علم عیسائی خاتون انگرؤلف (Inger Wulff) کے دل میں یہ تحریک فرمائی کہ وہ خود اس سراسر غلط بات کی تردید کرے چنانچہ اس عورت نے اس اخبار کو ایک خط لکھا اور اس میں پرزور طریق پر اس امر کی تردید کی اور افسوس کا اظہار کیا کہ ہم اپنے علم پر فخر کا اظہار کرتے ہیں حالانکہ ہمارا ہی ایک اخبار اسلام کی طرف ایسی بات منسوب کرتا ہے جو سراسر غلط اور بے بنیاد ہے۔اللہ تعالی نے ایسا تصرف فرمایا کہ اس اخبار نے اپنے ۲۶ جولائی کے پرچہ میں اس عیسائی خاتون کا مراسلہ شائع کر کے خود ہی اپنی پھیلائی ہوئی غلط فہمی کا ازالہ کر دیا۔ڈنمارک سے انگلستان تک 111 سید نا حضرت خلیفہ امسیح الثالث مسجد نصرت جہاں کے افتتاح اور ڈنمارک میں قریباً ایک ہفتہ تک شب وروز دینی اور تبلیغی جہاد میں سرگرم عمل رہنے کے بعد ۲۶ جولائی ۱۹۶۷ء کو پونے چار بجے سہ پہر انگلستان کے لئے روانہ ہوئے۔ڈنمارک کے مخلص احمدیوں ، یورپ کے مبلغین احمدیت اور دوسرے سر بر آوردہ حضرات نے حضور کو دلی دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا۔جہاز ساڑھے پانچ بجے