تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 133
تاریخ احمدیت۔جلد 24 133 سال 1967ء کئی گھنٹے تک مشن ہاؤس میں مقیم رہا۔اور عصر کی نماز میں پورا وقت مسجد کے اندر رہ کر حضور کو نماز پڑھاتے دیکھتا رہا۔پریس کا ایک اور نمائندہ اگلے روز آیا اور کہا کہ میں اب دوبارہ حضور کی زیارت کے لئے آیا ہوں اور کہنے لگا کہ میں تو اس شخص کو سر سے پاؤں تک روحانیت میں بھرا ہوا پا تا ہوں“ ایک امریکن استاد جو تمام مذاہب کے متعلق وسیع علم رکھتے ہیں اور خود ایک علمی اور مذہبی حلقہ کے سر براہ ہیں انہوں نے اپنی کیفیت بیان کرتے ہوئے لکھا کہ مسجد کے افتتاح کے وقت حضور سے چند لمحوں کی ملاقات اس کی روحانی زندگی کے سب سے قیمتی لمحات تھے۔یورپین احمدیوں کا حال یہ تھا کہ پروانوں کی طرح ہر وقت حضور کے اردگرد حاضر رہتے اور حضور کی ہر بات سننے کے لئے بیقرار رہتے گو یا شمع خلافت پر قربان ہو جانا چاہتے ہیں۔شمالی یورپ میں عموماً اور سویڈن میں خصوصاً کسی مرد کے لئے رونا اس کی بزدلی اور کمزوری کی علامت سمجھا جاتا ہے اور یہ صرف عورت کے لئے جائز سمجھا جاتا ہے اور اس بات پر زور بھی دیا جاتا ہے کہ ہر گز اپنے جذبات کا کھلم کھلا اظہار نہ کیا جائے۔مگر حضور کی ذات نے چند لمحوں میں کچھ اس طرح ان کو متاثر کیا کہ وہ اس فطری اور قومی ضبط کو بھول گئے اور بات ان کے بس کی نہ رہی۔قدم قدم پر ان کے دبے ہوئے آنسو اُبل پڑتے اور وہ اپنی گہری محبت کے جذبات کا اظہار کئے بغیر نہ رہ سکے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ یورپین لوگ بالکل جذباتی نہیں ہوتے اور وہ کسی کے ساتھ جذباتی تعلق نہیں رکھتے مگر جو بھی حضور سے ملاقات کرتا یا بغلگیر ہونے کا شرف حاصل کرتا وہ ایک دم جذبات سے مغلوب ہو کر رہ جاتا اور بے تابانہ حضور سے اپنی محبت کا اظہار کرتا۔افتتاح کے وقت جن سیکنڈے نیوین احمدیوں نے حضور کو خوش آمدید کہا اس وقت وہ اپنے جذبات سے اس قدر مغلوب اور گلو گیر ہوئے کہ بمشکل الفاظ ادا کر سکے اور الفاظ ان کے حلق میں پھنس کر رہ جاتے تھے۔ہر شخص ایک غیر معمولی روحانی خوشی سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ہر ایک نے دن رات ایک کر کے ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر حضور کی خدمت کرنے اور خدمت میں حاضر رہنے کی سعادت حاصل کی اور حضور نے بھی از راہ شفقت اپنی انتہائی مصروفیات کے باوجود ہر ایک پر نظر کرم رکھی۔اس موقعہ پر پاکستان کے ایک مشہور سجادہ نشین کے صاحبزادے اور ان کی ڈینیش بیوی نے بھی حضور کے ہاتھ پر بیعت کی۔الحمد للہ