تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 131
تاریخ احمدیت۔جلد 24 131 سال 1967ء اس سوال پر کہ احمدیت کے آئندہ تعلقات عیسائیت سے کیا ہوں گے؟ حضور نے فرمایا کہ موجودہ عیسائیت اور اسلام میں بہت زیادہ فرق ہے۔لیکن ایک عیسائی اور مسلمان میں انسانیت ایک جیسی ہے۔ہمیں آپس میں بیٹھ کر تبادلہ خیالات کرنا چاہیئے۔تا کہ ایک دوسرے کے خیالات کا علم ہو کر غلط نہی دور ہو۔ایک دو موقعوں پر ایک عیسائی پادری نے حضور کے اس غیر معمولی اثر کو جو حاضرین پر ہورہا تھا دور کرنے کے لیے بعض اعتراضات غیر مناسب رنگ میں کرنے شروع کر دیے۔اس پر عبد السلام صاحب میڈسن (جو نو مسلم احمدی ہیں ) جوش میں آگئے۔مگر حضور نے بڑے تحمل اور حکیمانہ رنگ اختیار کرتے ہوئے اپنے جواب کو جاری رکھا۔اور عبد السلام صاحب میڈسن کو بھی صبر کی تلقین کی۔ملاقات کے آخر میں حضور نے عیسائیت کے ان مذہبی رہنماؤں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اُس انعامی چیلینج کا انگریزی ترجمہ پیش کیا۔جو حضور نے اپنی کتاب ” سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب“ کے صفحہ ۳۴ پر دیا تھا۔جس میں حضور نے پادری صاحبان کو بائبل سے سورہ فاتحہ کے حقائق و معارف پیش کرنے کی دعوت دی تھی۔حضور نے فرمایا کہ یہ دعوت اب بھی کھلی ہے۔اور ہمیں خوشی ہوگی کہ اگر عیسائیت کی سچائی اور اسلام کی صداقت کا فیصلہ کرنے کے لیے عیسائی حضرات اس دعوت کو قبول کریں۔اس کے علاوہ حضور نے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حسب ذیل چیلنج بھی دہرایا۔اسی خیال سے یہ اشتہار جاری کیا جاتا ہے اور ظاہر کیا جاتا ہے کہ جس قدر اصول اور تعلیمیں قرآن شریف کی ہیں۔وہ سراسر حکمت اور معرفت اور سچائی سے بھری ہوئی ہیں۔اور کوئی بات ان میں ایک ذرہ مؤاخذہ کے لائق نہیں اور چونکہ ہر ایک مذہب کے اصولوں اور تعلیموں میں صد با جزئیات ہوتی ہیں۔اور ان سب کی کیفیت کا معرض بحث میں لانا ایک بڑی مہلت کو چاہتا ہے۔اس لیے ہم اس بارہ میں قرآن شریف کے اصولوں کے منکرین کو ایک نیک صلاح دیتے ہیں کہ اگر ان کو اصول اور تعلیمات قرآنی پر اعتراض ہو تو مناسب ہے کہ وہ اوّل بطور خود خوب سوچ کر دو تین ایسے بڑے سے بڑے اعتراض بحوالہ آیات قرآنی پیش کریں۔جو ان کی دانست میں سب اعتراضات سے ایسی نسبت رکھتے ہوں جو ایک پہاڑ کو ذرہ سے نسبت ہوتی ہے۔یعنی ان کے سب اعتراضوں سے ان کی نظر میں اقوامی واشد اور