تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 130
تاریخ احمدیت۔جلد 24 130 سال 1967ء السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ آپ کا تارملا۔جزاکم اللہ احسن الجزاء۔امید ہے آپ کو بھی تار مل گیا ہوگا۔اللہ تعالیٰ یہ خوشی آپ کو خصوصاً اور تمام لجنہ کی ممبر خواتین کو عموماً مبارک کرے۔اللہ تعالیٰ اس قربانی کو قبول فرمائے اور اپنے خاص فضل سے اس مسجد کو اس علاقہ میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا مرکز بنائے۔108 ڈینش مشنری سوسائٹی کے وفد سے ملاقات تقریب افتتاح کے سبب اسلام کا اس قدر چرچا ہوا کہ عیسائی حلقے بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔چنانچہ ڈینش مشنری سوسائٹی کے سیکرٹری نے جو پاکستان میں ڈینش چرچ کے مناد بھی رہ چکے ہیں، عیسائی علماء کے ایک گروہ کے ساتھ حضور کی خدمت میں حاضر ہوکر تبادلہ خیالات کی درخواست کی۔چنانچہ ڈینیش مشنری سوسائٹی کے بعض نامور مناد، کوپن ہیگن یو نیورسٹی کے مستشرق اور کوپن ہیگن یو نیورسٹی کے اینتھالوجی ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر اور ان کے مشیر کے علاوہ عیسائی منادوں کے اس بورڈ کے ممبر جو احمدیت پر تحقیق کر رہا تھا۔۲۲ جولائی بروز ہفتہ شام سات بجے حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے۔اراکین وفد کا تعارف کرانے کے بعد ڈینش مشنری سوسائٹی کے سیکرٹری نے اس ملاقات کی غرض بیان کی۔اور اس کے بعد حضور سے یہ سوال کیا کہ احمد یہ جماعت میں حضور کا مقام کیا ہے؟ حضور نے اس کے جواب میں فرمایا کہ میں اور جماعت احمد یہ ایک ہی وجود ہیں جماعت کے لیے میرے تمام ایسے احکام کی جو امر معروف ہوں۔اطاعت واجب ہے اور میرے لیے قرآن مجید اور سنت نبوی کی پیروی ضروری ہے۔اس کے بعد یہ سوال کیا گیا کہ جماعت احمدیہ کے تعلقات اہل سنت و الجماعت اور اہل تشیع سے کیسے ہیں؟ حضور نے اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ بنیادی طور پر ہم میں اتحاد موجود ہے اور اسلام کے سب فرقے ہی اللہ ، قرآن اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتے ہیں ہمارا زیادہ اختلاف فقہ میں یا غیر بنیادی باتوں میں ہے۔اور جہاں کہیں ہماری مخالفت ہوتی ہے وہ بحیثیت سنی یا شیعہ ہونے کے نہیں ہوتی۔بلکہ انفرادی یا مقامی طور پر ہوتی ہے۔ہماری شاندار تبلیغی مساعی کے نتائج دیکھ کر مسلمان ہمیں دن بدن بنظر استحسان دیکھ رہے ہیں۔اور اہلِ علم طبقہ میں ہماری قدر بڑھ رہی ہے۔