تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 107 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 107

تاریخ احمدیت۔جلد 24 107 سال 1967ء تھی۔اب میں جرمنی آیا تو مجھے یوں محسوس ہوا کہ میں گویا اپنے ہی ایک ملک سے اُڑ کر دوسرے اپنے ملک میں آ گیا ہوں۔اور میں آپ سب کا جنہوں نے میرے لئے بہت سے الفاظ پیار، محبت اور احترام کے استعمال کئے ہیں، شکریہ ادا کرتا ہوں۔صرف اپنی جماعت کا ہی نہیں بلکہ اس جرمن گورنمنٹ کا خاص طور پر جن کے نمائندے یہاں بیٹھے ہیں۔میں ایک پیغام آپ کے کانوں تک پہنچانا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اسلام امن کا مذہب ہے۔اسلام کے معنی ہی امن کے ہیں اور مسلمان وہ ہے جو کسی کو بھی دُکھ نہیں پہنچا تا۔ہر ایک کو سکھ پہنچانے کی کوشش کرتا ہے اور ہر ایک کا دُکھ دور کرتا ہے۔اس لئے میرے دل میں آپ سب کی بڑی خیر خواہی ہے اور میں ہمیشہ دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اِس قوم کو اور دوسری قوموں کو بھی اِس ایٹمی تباہی سے جوسروں پر منڈلا رہی ہے محفوظ رکھے۔اس تباہی سے بچنے کا ایک نسخہ میں آپ کو بتا سکتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اپنے پیدا کرنے والے کے ساتھ ایک زندہ تعلق پیدا کریں۔کیونکہ اس وقت خدا غضب میں ہے اگر آپ اُسے راضی نہ کریں گے (تو) تباہ ہو جا ئیں گے۔دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آج امام صاحب ( چوہدری عبد اللطیف صاحب) کی لڑکی کی شادی ہے اس موقعہ پر میں امام صاحب اور آپ کو اس کی مبارک باد دیتا ہوں۔اور یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اسلام نے عورت کے حقوق کی اتنی حفاظت کی ہے کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔چودہ سو سال میں عورت نے ہر ایک قسم کی قربانی دے کر جو حقوق حاصل کئے ہیں اسلام نے پہلے سے یہ دے دیئے ہیں۔اس سے بھی کہیں زیادہ۔اس لئے ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ ہر ایک کو تم میں سے عورت کے حقوق کے متعلق معلومات حاصل کرنی چاہئیں اور عورتوں کو بھی چاہئیے کہ مردوں کو مجبور کریں کہ وہ اُنہیں اُن کے حقوق کے متعلق معلومات بہم پہنچائیں تا عورت وہ تمام حقوق حاصل کر سکے جو اس کا پیدائشی حق ہے اور جو ایک مرد بعض دفعہ اسے دیتا نہیں۔آخر میں آپ سب کا دوبارہ شکریہ۔جماعت کا بھی اور باہر سے آنے والوں کا بھی۔اور میری یہ دُعا ہے کہ آپ سب کو اللہ تعالیٰ اپنی شناخت کی توفیق بخشے۔(آمین)