تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 103
تاریخ احمدیت۔جلد 24 103 سال 1967ء پھر اخبار مذکورلکھتا ہے:۔وو سارے عالم اسلام میں جماعت احمدیہ ہی ایک ایسی تنظیم ہے جو تبشیر اسلام کے کام کو منتظم رنگ میں چلا رہی ہے اور جس کے افراد اور تبشیری مراکز ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں، مسجد مبارک ہیگ ، ان پانچ مساجد میں سے ایک ہے جو براعظم یورپ میں تعمیر ہو چکی ہیں۔“ ہیگ کا ایک اہم روزنامه HET VADERLAND جو تعلیم یافتہ طبقہ میں بہت مقبول ہے اور بڑی دلچسپی کے ساتھ پڑھا جاتا ہے اپنی ۱۵ جولائی کی اشاعت میں زیر عنوان ہیگ میں مسلم لیڈر رقمطراز ہے:۔امام جماعت احمد یہ۔۔۔حضرت مرزا ناصراحمد صاحب خلیفہ المسح الثالث ( مرکز پاکستان ) جو ۷ ۵ سال کے ہیں زیورک سے بذریعہ ہوائی جہاز ایمسٹر ڈیم کے ہوائی اڈہ پر تشریف لائے ہیں۔آپ بانی سلسلہ احمدیہ کے پوتے ہیں۔آپ کو تھوڑا عرصہ ہوا جماعت کا تیسرا خلیفہ منتخب کیا گیا۔امام صاحب مسجد ہیگ نے جماعت کے افراد نیز اسلام سے ہمدردی رکھنے والے احباب کے ہمراہ ہوائی اڈہ پر پہنچ کر آپ کو خوش آمدید کہا۔آپ ہالینڈ میں صرف چند روز قیام فرمائیں گے اور اگلے ہفتہ جمعہ کے روز کوپن ہیگن میں ایک نئی اور اس ملک میں بننے والی پہلی مسجد کا افتتاح فرما دیں گے۔آپ نے کل ( پریس کانفرنس کے دوران ) فرمایا کہ پیشگوئیوں کی روشنی میں یہ امر واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ مستقبل میں اسلام مغربی ممالک میں پھیل کر رہے گا۔نیز فرمایا کہ پیشگوئیوں سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ مغربی ممالک پر پہلے ایک تباہی آئے گی اور اس کے بعد یہاں اسلام کو مضبوطی حاصل ہوگی۔گو اس وقت کوئی یہ گمان نہیں کر سکتا کہ ایسا ہوگا۔مگر یہ بات یقینی ہے کہ ایسا ضرور ہوگا۔یہ ایک پیشگوئی ہے جو پوری ہو کر رہے گی۔اس ضمن میں آپ نے ملک روس کا خاص طور پر نام لیا۔(ایک سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ احمدیت کا سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ لوگ اپنے خالق سے زندہ تعلق پیدا کریں کیونکہ اس کے بغیر زندگی بالکل بے شمر ہے۔اس تعلق کے بغیر ایک انسان کی زندگی ایسی ہے جیسے ایک حیوان یا ایک کیڑے کی زندگی۔جس کی کوئی خاص حقیقت ہی نہیں۔“ ہیگ کا سب سے کثیر الاشاعت اور آزاد خیال اخبار HAAGSCHE COURANT اپنی ۱۵ جولائی کی اشاعت میں حضور اقدس کا ایک نہایت دل نواز فوٹو دیکر لکھتا ہے: