تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 88
تاریخ احمدیت۔جلد 24 88 سال 1967ء بتایا جائے وہ بچے سمجھ جائیں گے۔بچے کو اللہ تعالیٰ نے بڑا ذہین بنایا ہے اور وہ علم کا بڑا شوق رکھتا ہے۔اس لئے وہ ماں باپ اور استادوں سے ہر وقت ہر چیز اور معاملے کے متعلق سوال کرتا رہتا ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسکی فطرت میں علم کے حصول کا شوق پایا جاتا ہے۔اگر آپ اسکی فطرت کو علم کے پانی سے سیر نہیں کرتے۔تو یہ اس کا قصور نہیں آپ کا قصور ہے۔پس ہمارے لیے ضروری ہے کہ اس ملک میں رہنے والے سب مسلمان آپس میں مشورہ کریں اور ایسے ذرائع اختیار کریں جن کے نتیجہ میں بچہ قرآن کریم کی تعلیم کو سمجھنے لگے۔قرآن کریم ایک عظیم نور ہے جو بچے کے دل کو اسی طرح منور کرتا ہے جس طرح ایک بڑے کے دل کو ، قرآن کریم میں علم کے سمندر موجزن ہیں۔اسکے علوم کبھی ختم ہونے والے نہیں۔جس طرح پچھلے چودہ سوسال کے مسائل کو قرآن کریم نے حل کیا ہے آج بھی ہمارے مسائل کو قرآن کریم نے حل کیا ہے۔آج بھی ہمارے مسائل کو قرآن کریم حل کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔لیکن ہم قرآن کریم پر فکروتدبر کرنے کی بجائے دوسری طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔حالانکہ خود قرآن کریم نے ہمیں بتایا ہے کہ جب تک دعا اور تدبیر کو کمال تک نہ پہنچاؤ کامیابی حاصل نہیں کی 86 جاسکتی۔زیورک میں تقریب ظہرانہ جولائی کو حضور کے اعزاز میں ظہرانہ کا انتظام کیا گیا۔جس میں سات ملکوں کے سفیروں مثلاً غانا، نائیجیریا، ایران، ترکی وغیرہ کے علاوہ عراق کے سابق وزیراعظم ، متعدد دیگر سفارتی نمائندوں اور سوئٹزرلینڈ کے دیگر سر بر آوردہ حضرات نے شرکت کی۔سوئس ریڈیو نے حضور کا ایک خصوصی انٹرویو نشر کیا۔ٹیلی ویژن نے حضور کے انٹرویو اور استقبالیہ تقریب کی فلم تیار کی۔انٹرویو کے مناظر اسی شام ٹیلی ویژن پر دکھائے گئے۔87 ظہرانہ کے موقعہ پر حضور نے فرمایا: اسلام امن کا مذہب ہے اور امن کو قائم کرتا ہے۔سینکڑوں احکام اس