تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 87
تاریخ احمدیت۔جلد 24 87 سال 1967ء خدمت میں سپاسنامہ پیش کیا۔چودھری صاحب نے کہا کہ حضور کی یورپ میں تشریف آوری سے ان کی اور زیورک کی جماعت کی ایک دیرینہ خواہش پوری ہوئی ہے اور اس کے لیے وہ سب حضور کے از حد ممنون ہیں۔آپ نے حضور کی تعلیم القرآن اور وقف عارضی کی سکیموں کا ذکر کیا اور کہا کہ ان سکیموں کے ذریعہ جماعت کے لیے یہ بات ممکن بنادی کہ ہر شخص قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق زندگی بسر کرے۔حضور نے ان سپاسناموں کے جواب میں اردو میں تقریر فرمائی جس میں حضور نے قرآن کریم کی تعلیم کی افادیت اور اسلام کی امن پسندی کی طرف خاص طور پر توجہ دلائی اور حاضرین سے اپیل کی کہ وہ اسلام کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھال کر اس سے پورا پورا فائدہ اُٹھانے کی کوشش کریں۔اس سپاسنامہ کے جواب میں حضور انور نے فرمایا: د بعض بھائیوں نے یہ ذکر کیا ہے کہ سوئٹزر لینڈ اور اسی طرح (اگر چہ نام نہیں لیا گیا ) یورپ کے بعض دوسرے ممالک مسلمانوں کو بڑی خوشی سے اپنے ملک میں ملازمتیں دیتے ہیں اور مسلمان خاندان بڑی کثرت سے ان ممالک میں آباد ہیں۔میں تمام اپنے مسلمان بھائیوں کی طرف سے آپ کے ملک کا اور دوسرے ممالک کا جو ہمارے ساتھ حسن سلوک کرتے ہیں ممنون ہوں لیکن غیر ممالک میں جمع ہو جانے کی وجہ سے اور وقتی طور پر آباد ہو جانے کے نتیجہ میں بہت سے مسائل پیش آگئے ہیں۔جن میں سے ایک اہم مسئلہ جس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ مسلمان خاندانوں کے بچوں کو دینی تعلیم دینا اور صحیح تربیت کرنا ہے میں بڑا خوش ہوں کہ ہمارے دوست نے اس طرف اشارہ کیا اور میں آپ سب کو یقین دلاتا ہوں کہ اس مسئلہ پر غور کرنے کے بعد جو بھی ممکن ہوسکا بچوں کی تربیت اور تعلیم کے لیے کیا جائے گا۔میں اپنے مسلمان بھائیوں کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ بات غلط ہے کہ قرآن کریم بچے سمجھ نہیں سکتے اگر آپ قرآن کریم کا ترجمہ اس زبان میں کریں جس کو بچہ سمجھ سکے تو یقینا وہ قرآن کریم سمجھنے لگ جائے گا جس طرح انگریزی کا ترجمہ جرمن لوگ نہیں سمجھ سکتے اسی طرح بڑوں کے لئے جو قرآن کریم کا ترجمہ ہے۔وہ بچے نہیں سمجھ سکتے لیکن جس طرح جرمن ترجمہ جرمن بولنے والے سمجھ سکتے ہیں بچوں کی زبان میں جو انہیں