تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 86 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 86

تاریخ احمدیت۔جلد 24 کے علاوہ لکھا: 86 سال 1967ء فرینکفورٹ میں احمدی جماعت کا ایک مشن ہی نہیں بلکہ مسجد بھی ہے۔جس کا مقصد یہ ہے کہ تمام دنیا کے لوگوں کو اسلام کی سچائی سے روشناس کرایا جائے۔انیسویں صدی کے آخر میں حضرت مرزا غلام احمد (علیہ السلام) جنہوں نے اس سلسلہ کی بنیا درکھی، نے خدائی الہامات کے ماتحت اپنے مسیح اور مہدی ہونے کا دعوی کیا۔اور اپنے دعوی کی صداقت میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں اور دوسرے مذہبی رہنماؤں کے اقوال اور تصانیف کو پیش کیا۔باوجود سخت مخالفت کے اب ساری دنیا میں اس سلسلہ کے ماننے والوں کی تعداد میں لاکھ کے قریب ہوگئی ہے۔زیورک میں تشریف آوری اور کامیاب استقبالیہ تقاریب 66 حضرت خلیفہ المسیح الثالث فرینکفورٹ میں ایک روزہ قیام کے بعد اجولائی کو صبح گیارہ بجے کے قریب زیورک ( سوئٹزرلینڈ) تشریف لے گئے۔ہوائی اڈے پر سوئٹزرلینڈ کے معزز اور سر بر آوردہ مسلمانوں نے حضور کا شاندار استقبال کیا۔شام کو حضور کے اعزاز میں ایک استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی۔جس میں معززین کثرت سے شامل ہوئے اور مختلف ملکوں کے مسلمانوں نے حضور کی خدمت میں جذبات محبت و عقیدت کا اظہار کیا۔جناب چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ اس استقبالیہ کا اہتمام مسجد میں کیا گیا تھا۔تلاوت قرآن کریم ڈاکٹر محم حمودی اجسیم نے کی جو کہ بہت بڑے عالم اور قانون کی متعدد کتابوں کے مصنف اور عراق کے ڈپٹی اٹارنی جنرل تھے۔ان کے بعد سب سے پہلا سپاسنامہ ایک ترک انجینئر مسٹر سوات اکتم نے پیش کیا۔آپ نے اپنے سپاسنامہ میں اس بات کا خاص طور پر ذکر کیا کہ احمدیہ مشن مسلمانوں کی ہر قسم کی مدد پر آمادہ رہتا ہے اور بچوں کی تعلیم کا انتظام کر کے تو اس مشن نے نہایت قابل قدر خدمت سر انجام دی ہے۔ان کی تقریر اور دیگر تقریریں بھی ) ڈاکٹر اسمعیل حسن پی۔ایچ ڈی نے ترجمہ کیں۔ان کے بعد یوگوسلاویہ کے ایک نہایت معزز دوست عادل ذوالفقار پاسک صاحب نے خوش آمدید کہا۔عادل صاحب کے بعد ڈاکٹر محمد عزالدین حسن صاحب نے سپاسنامہ پیش کیا۔ان سب حضرات کے بعد چودھری مشتاق احمد صاحب باجوہ نے جماعت کی طرف سے حضور کی