تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 85
تاریخ احمدیت۔جلد 24 85 سال 1967ء میں حضرت مسیح موعود اور مہدی کے تیسرے جانشین کے طور پر اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ دعوی کرتا ہوں کہ ہمارا خدا ایک زندہ خدا، حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک زندہ رسول اور حضرت مسیح موعود آپ کے روحانی فرزند ایک زندہ طاقت ہیں۔آپ کا چیلنج جو آج تک کسی کو بھی قبول کرنے کی توفیق نہیں ہوئی اب بھی قائم ہے۔اگر دوسرے مذاہب کے رہنما اس چیلنج کو قبول کر لیں تو دنیا کو اسلام کی صداقت کے عدیم المثال اظہار کو مشاہدہ کرنے کا موقع مل جائے گا۔اللہ تعالیٰ آپ پر اپنا فضل فرمائے اور آپ کے ساتھ ہو اور آپ کو اپنے پیدا کرنے والے کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کی توفیق بخشے فرینکفورٹ پریس میں چرچا 81 حضرت خلیفہ المسیح الثالث کا فرینکفورٹ میں قیام صرف ایک روز کا تھا اور حضور کے دورہ کی پیلیٹی کے لئے کوئی خاص انتظامات نہیں کئے جاسکتے تھے۔لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ یہ دورہ اسلام کی اشاعت کے لئے ایک اہم کڑی ثابت ہو۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے خود ہی یورپ کے صحافیوں اور پریس کے نمائندوں کے دلوں میں خصوصی تحریک فرمائی کہ وہ اس اہم دورہ کی تشہیر اور حضور کے پیغام کی وسیع پیمانے پر اشاعت کے لئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کریں۔اس آسمانی تحریک کا آغاز فرینکفورٹ سے ہی ہو گیا۔چنانچہ حضور کے فرینکفورٹ پہنچنے پر فرینکفورٹ کے ایک اخبار نے لکھا: حیح و تمیں لاکھ احمدی افراد کے خلیفہ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب ( عمر ۵۸ سال) ہفتہ کے روز فرینکفورٹ میں تشریف لائے۔دریائے مائن پر واقع فرینکفورٹ شہر ان کے لئے اجنبی نہ تھا کیونکہ آپ اس سے قبل ۱۹۳۶ء میں یہاں آئے تھے جبکہ آپ انگلستان میں پولٹیکل سائنس کی تعلیم مکمل کر رہے تھے۔آپ سکینڈے نیویا میں کوپن ہیگن کی پہلی مسجد کا افتتاح فرمائیں گے اس موقعہ پر آپ یورپ کے دوسرے مشنوں کا بھی معاینہ فرمائیں گے۔احمد یہ جماعت افریقہ میں بہت کامیابی کے ساتھ تبلیغ اسلام کے فریضہ میں مشغول ہے۔اس جماعت نے گزشتہ دس سالوں میں وہاں متعدد مساجد اور سکول اور ہسپتال قائم کئے ہیں۔فرینکفورٹ ہی کے ایک اور اخبار ”فرینکفورٹ رنڈ شاؤ“ نے ایک نوٹ دیا۔دیگر باتوں