تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 82 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 82

تاریخ احمدیت۔جلد 24 82 سال 1967ء ہیں کہ ان کی شریعت مکمل نہیں۔پھر وہ مکمل شریعت لانے والا کون ہوسکتا ہے۔“ ایک جرمن نو جوان مسٹر والٹر ہلزے حضور کے ہاتھ پر بیعت کر کے مشرف بہ اسلام ہوا حضور نے اس کا نام ناصر محمود رکھا۔اسے حضور نے مندرجہ ذیل نصائح فرمائیں:۔”ہم میں اور دوسرے لوگوں میں فرق یہ ہے کہ ہم ایک زندہ خدا پر ایمان رکھتے ہیں جو ہماری دعاؤں کو سُنتا اور شرف قبولیت بخشتا ہے ہمیں چاہئیے کہ ہم اس خدا سے ذاتی تعلق پیدا کریں اور اس تعلق کے پیدا کرنے کے لئے رنگ نسل یا قوم کا 66 کوئی امتیاز نہیں۔خدا تعالیٰ دلوں کو دیکھتا ہے۔“ استقبالیہ میں حضور کا خطاب اس موقع پر 9 جولائی کی سہ پہر حضور انور کو ایک استقبالیہ دیا گیا جس میں معززین شہر ، مقامی جماعت کے افراد، کچھ ایرانی مسلمان، نیورمبرگ اور دیگر جرمن جماعتوں کے نمائندے شامل ہوئے۔شہر کی انتظامیہ کے صدر جناب روڈلف ٹیفس صاحب (Rudolf Tefs)،عدلیہ فرینکفورٹ کے نمائندے جسٹس جناب فریڈرش کارل (Fredrish Carl) اور ان کی اہلیہ۔شہر کے نائب میئر۔فرینکفورٹ یونیورسٹی کے معزز پروفیسر لی پال ویرینٹس (Lie Paul Werints) شہر کی بلد یہ کے ڈائریکٹر ہینس ویرنر شنائڈر (Hans Werner Schneider) اوفن برگ کے کیتھولک پادری ڈاکٹر فرٹز فائل (Dr۔Firitz Pfeil) ایک پروٹسٹنٹ پادری ریورنڈ کہنے (Rev۔Kunhe) اور ان کے ایک دوست اور ان کے علاوہ بہت سے جرمن عیسائی اور ایرانی مسلمان شامل ہوئے۔استقبالیہ کی تقریب میں حضرت اقدس کی خدمت میں فرینکفورٹ کی جماعت نے سپاسنامہ پیش کیا جس کے جواب میں حضور نے جو تقریر انگریزی میں فرمائی اس کے متن کا مکمل ترجمہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے: معزز حضرات و خواتین ! میں جماعت فرینکفورٹ کا بہت ممنون ہوں اس استقبالیہ سپاسنامے کے لئے جو اُن کی طرف سے اس اجلاس میں پڑھا گیا ہے۔اسی طرح ان تمام بھائیوں اور بہنوں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جو کچھ وقت خرچ کر کے یہاں آئے ہیں اور اس