تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 83
تاریخ احمدیت۔جلد 24 83 سال 1967ء طرح مجھے ذاتی طور پر متعارف ہونے کا موقع دیا ہے۔میری فرینکفورٹ میں یہ پہلی آمد نہیں ہے۔میں اس سے پہلے بھی یہاں آچکا ہوں۔اُس وقت میں ایک طالبعلم تھا اور اگرچہ میرا یہاں قیام بہت مختصر تھا مگر میرے ذہن میں اُس وقت کے فرینکفورٹ کے طالبعلم بچوں کی یاداب تک تازہ ہے۔میں نے انہیں سادہ، خوش وضع اور محنتی پایا۔مجھ پر جو تاثر انہوں نے پیدا کیا وہ بہت گہرا تھا۔یہی وجہ ہے کہ سالہا سال گزر جانے کے بعد بھی وہ ابھی تک قائم ہے۔اسوقت وہی بچے میرے سامنے آزمودہ کار اور جہاندیدہ شرفاء کی صورت میں بیٹھے ہوئے ہیں اور مجھے ان سے دوبارہ مل کر خوشی ہوئی ہے۔گویا ایک اعتبار سے میں کہہ سکتا ہوں کہ میں آپ کو پہلے ہی سے جانتا ہوں۔میں آپ سے دوبارہ مل کر خوش ہوں۔بالخصوص اس لئے کہ مجھے آج یہ شرف حاصل ہوا ہے کہ اس خدا تعالیٰ کے فرستادہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح و مہدی موعود اور سلسلہ عالیہ احمدیہ کے بانی کے متعلق کچھ بتاؤں۔انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ ان کو اس آخری زمانہ کا مصلح بنا کر مبعوث کیا گیا ہے اور ان کے سپر د ایک خاص کام کی سرانجام دہی اور ایک خاص نصب العین کا حصول کیا گیا ہے۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اُن کو خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ یقین اور وعدہ دیا گیا ہے کہ وہ آخر کار کا میاب ہوں گے کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ باوجود ہر قسم کی عداوت اور مخالفت کے جس کا اُن کو سامنا کرنا پڑے گا وہی کامیاب ہوئے۔میں مناسب سمجھتا ہوں کہ اُن کا دعویٰ خود ان کے الفاظ میں پیش کروں۔وہ فرماتے ہیں: وہ کام جس کے لئے خدا نے مجھے مامور فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ خدا میں اور اس کی مخلوق کے رشتہ میں جو کدورت واقع ہوگئی ہے اس کو دُور کر کے محبت اور اخلاص کے تعلق کو دوبارہ قائم کروں۔اور سچائی کے اظہار سے مذہبی جنگوں کا خاتمہ کر کے صلح کی بنیاد ڈالوں۔اور وہ دینی سچائیاں جو دنیا کی آنکھ سے مخفی ہوگئی ہیں اُن کو ظاہر کر دوں۔اور وہ روحانیت جو نفسانی تاریکیوں کے نیچے دب گئی ہے اس کا نمونہ دکھاؤں اور خدا کی طاقتیں جو انسان کے اندر داخل ہو کر توجہ یا دعا کے ذریعہ سے