تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 80
تاریخ احمدیت۔جلد 23 80 سال 1965ء کیا گیا تھا۔چھمب میں بھارت نے بڑے مضبوط مورچے بنارکھے تھے۔اور یہاں فوج کی بھاری جمعیت تعینات تھی۔میجر جنرل اختر حسین ملک نے ان مورچوں پر حملہ کر دیا اور بھارتی فوج کو نیست و نابود کرنے میں کامیاب ہو گئے۔حالانکہ اس مہم کے لئے ان کی فوج کی تعداد عام حالات میں بھی نا کافی سمجھی جاتی۔بھارتی فوج پر یہ کاری ضرب لگانے کا سہرا میجر جنرل اختر حسین ملک کے سر ہے جنہوں نے انتہائی جرات سے حملے کا منصوبہ بنایا اور غیر معمولی قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔اس دلیرانہ کارنامے اور نمایاں ذاتی شجاعت پر انہیں ہلال جرات کا اعزاز دیا گیا۔50 ۹۔میجر جنرل (ریٹائرڈ) سرفراز خاں ہلال جرات ملٹری کر اس رقمطراز ہیں:۔جس ہنر مندی سے اختر ملک نے چھمب پر اٹیک کیا اسے شاندار فتح کے علاوہ کوئی دوسرا نام نہیں دیا جاسکتا وہ اس پوزیشن میں تھے کہ آگے بڑھ کر جوڑیاں پر قبضہ کر لیں کیونکہ چھمب کے بعد دشمن کے قدم اکھڑ چکے تھے اور وہ جوڑیاں خالی کرنے کے لئے فقط پاکستانی فوج کے آگے بڑھنے کے انتظار میں تھے مگر ایسے نہیں ہونے دیا گیا کیونکہ پکی پکائی پر یحیی خان کو بٹھانے اور کامیابی کا سہرا ان کے سر باندھنے کا پلان بن چکا تھا لیکن نقصان کس کا ہوا ؟ بھارت کو مکمل شکست دینے کا موقعہ ہاتھ سے نکل گیا۔کمانڈ کی تبدیلی میں دو دن ضائع ہوئے اور جوڑیاں پر قبضہ کرنے کے لئے مزید تین دن لگ گئے۔جوڑیاں پر قبضہ ۵ ستمبر کو ہوا حالانکہ اگر کمانڈ کی تبدیلی نہ ہوتی تو یہی کام ۲ ستمبر کو مکمل ہو جاتا۔ادھر جب بھارت نے لاہور کے محاذ پر حملہ کیا تو باوجود نفری کی کمی کے اس کا منہ توڑ جواب دیا گیا اور پہلے دو دنوں میں اسے اس قدر نقصان اٹھانا پڑا کہ تیسرے روز اس کے حملوں کی شدت میں نمایاں کمی نظر آنے لگی۔۸ ستمبر کو جی ایچ کیو نے بڑا جوابی حملہ کھیم کرن کے محاذ سے بھارتی ساتویں ڈویژن اور پندرہویں ڈویژن کے عقب میں جو لاہور کے بر کی سیکٹر اور واہگہ سیکٹر سے ٹکرا رہے تھے امرتسر کی جانب جنگ میں جھونک دیا۔بذات خود فوجی سٹریٹجی کے نقطہ نظر سے یہ بہت اعلیٰ چال تھی بشر طیکہ انفنٹری ڈویژن جو اس کا ناگزیر حصہ تھا اس فورس کے ساتھ موجود ہوتا لیکن وہ تو جوڑیاں بیٹھا ہوا تھا آرمرڈ ڈویژن کا ایڈوانس والٹو ہا“ اور ”اصل اتر تک پہنچ گیا۔جس کے بعد اس کے بیشتر ٹینک دلدل میں پھنس گئے۔یہاں انفنٹری کی ضرورت تھی جو آگے بڑھ کر فتح کئے ہوئے علاقے پر قبضہ جما لیتی اور ٹینکوں کو رات کے وقت مناسب تحفظ مہیا کرتی لیکن انفنٹر کی جوڑیاں میں بیٹھی ہوئی تھی اور پھنسے ہوئے ٹینک دشمن کے ہاتھ لگ گئے یہ سب کے سب پٹیان قسم کے ٹینک تھے۔دشمن نے اس علاقے کو پیشسیان