تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 75 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 75

تاریخ احمدیت۔جلد 23 75 سال 1965ء 46 45- میں ہماری شیر دل فوج نے اس سیکٹر میں دشمن کی قلعہ بندیوں کو پاش پاش کر دیا۔۔جناب شریف فاروق اپنی کتاب "پاکستان میدانِ جنگ میں“ کے صفحہ ۲۴۴ پر رقمطراز ہیں :۔کشمیر میں جنگ بندی لائن پر جب بھارتی فوج کی جارحانہ سرگرمیاں بہت بڑھ گئیں تو میجر جنرل اختر حسین ملک ستارہ قائد اعظم کو جو ایک پیدل ڈویژن کے جنرل آفیسر کمانڈنگ ہیں بھمبر کے علاقہ میں حملہ کی کمان سونپی گئی۔چھمب کے علاقہ میں بھارتی فوج کی جنگی مورچہ بندیاں بڑی مستحکم تھیں اور ان کا گیریزن بھی بہت مضبوط تھا۔میجر جنرل اختر حسین ملک نے نہ صرف بھارت کے اس مورچے پر حملہ کیا بلکہ اس کے گیریزن کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔حالانکہ ان کے پاس جو فوج تھی عام حالات میں اس کے لئے اتنا بڑا کام انجام دینا بہت مشکل سمجھا جاتا ہے۔صدر ایوب نے اس حملہ کی کامیاب قیادت اور اچھی منصوبہ بندی اور ذاتی شجاعت کے اعتراف میں انہیں ہلال جرأت کا اعزاز عطا کیا۔۴۔رسالہ سیارہ ڈائجسٹ لاہور نے ستمبر ۱۹۸۲ ء کی اشاعت میں صفحہ ۹۹ پر یہ انکشاف کیا:۔”ہماری ہائی کمان نے ایک دوسرا غلط فیصلہ یہ کیا کہ جنرل اختر ملک کو جو یہ منصوبہ بنانے اور اس کو رو بہ عمل لانے کے نگران بھی تھے اچانک تبدیل کر کے ان کی جگہ یحیی خان کو مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔۳/۲ ستمبر ۱۹۶۵ء کو یہ فیصلہ ہوا۔جنرل یحیی خان نے آتے ہی حملہ ایک دن کے لئے روک دیا، کیونکہ وہ منصوبہ سے واقفیت اور فوج کی اب تک کی کارکردگی سے واقف ہونا چاہتے تھے۔جنرل اختر ملک نے اس موقع پر ہائی کمان کو ہر ممکن طریقے سے سمجھانے کی کوشش کی کہ انہیں منصو بہ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے وہاں رہنے دیں لیکن ہائی کمان نے ایک نہ سنی۔ہماری اطلاع کے مطابق جنرل اختر ملک نے یہ پیشکش بھی کی کہ وہ جنرل یحییٰ خان کے ماتحت رہ کر اپنے منصوبہ کو انجام تک پہنچانا چاہتے ہیں لیکن ان کی یہ پیشکش بھی مسترد کر دی گئی۔اس فیصلے سے بھی منفی اثرات مرتب ہوئے۔حملے میں ست رفتاری آئی۔اس کے باوجود ہم دشمن کو کاٹتے ہوئے اکھنور کے پہاڑوں کے پاس پہنچ گئے جہاں سے ہمیں آگے بڑھنا تھا۔یہاں پر یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ اس سے پہلے والے حملے میں ہم کالی دھار تک پہنچ چکے تھے۔اگر ہمیں آگے بڑھنے کی اجازت دے دی جاتی تو ہم ۱۵ راگست سے پہلے کالی دھار سے آگے بڑھتے ہوئے نوشہرہ اکھنور سڑک کاٹ دیتے۔اس سے نہ صرف بھارت کی سپلائی لائن کٹ جاتی بلکہ مقبوضہ