تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 73 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 73

تاریخ احمدیت۔جلد 23 معرکہ چھمب وجوڑیاں 73 سال 1965ء اگست ۱۹۶۵ء میں بھارتی فوجیوں نے آزاد کشمیر کے علاقے میں کرگل کی تین چوکیوں پر قبضہ کر لیا۔اس کے علاوہ بھارتی فوج نے گجرات کے علاقہ اعوان شریف پر شدید گولہ باری کی جس سے مکانوں کی چھتوں اور درودیوار کے پر نچے اُڑ گئے اور بہت سے افراد جاں بحق ہو گئے۔اس کے بعد بھارت نے آزاد کشمیر کے علاقہ ٹیٹوال میں اپنی فوجیں اتار دیں۔بھارت نے یہاں دو بر یگیڈ جمع کر دئے۔بھارت کی ان مسلسل کا رروائیوں پر آزاد کشمیر کی فوج نے پاکستانی فوج کی مدد سے بھمبر کے علاقہ میں جنگ بندی لائن عبور کر کے چھمب اور دیوا کی بھارتی چوکیوں پر قبضہ کر لیا۔اس لڑائی میں آزاد کشمیر اور پاکستانی فوج نے سات طیارے مار گرائے، پندرہ ٹینکوں پر قبضہ کیا، لا تعداد اسلحہ ہاتھ آیا، سینکڑوں مخالف سپاہی ہلاک ہوئے اور بہت سے گرفتار کئے گئے۔چھمب کے اہم اور مضبوط فوجی مقام سے بھارتی فوجوں کی پسپائی کے بعد پاک افواج نے دریائے توی کو عبور کر کے آگے بڑھنا شروع کیا۔بھارتی فوج نے کئی بار پاکستانی علاقے پر حملہ کرنے کی کوشش کی لیکن پاکستان کی فضائیہ نے اس کی ایک نہ چلنے دی اور دریائے توی کو عبور کر کے پاک آزاد افواج پانچ میں آگے بڑھ گئیں۔یہ استمبر ۱۹۶۵ء کا دن تھا۔دریائے تو ی عبور کر کے۲۴ گھنٹے کے اندراندر بھارت کے سب سے اہم فوجی مرکز اور دفاعی حصار جوڑیاں پر حملہ کیا گیا۔پاکستانی فوج نے مد مقابل کو نقصان پہنچا کر جوڑیاں پر قبضہ کر لیا۔بہت سے فوجی قیدی بنائے گئے۔جوڑیاں میں بھارت کی زبردست قلعہ بند فوجوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور وہ اپنے ٹینک اور بکتر بند دستے میدان میں لے آئی لیکن وہ پاکستانی افواج کے سامنے نہ ٹھہر سکی۔اور زبردست ہزیمت اٹھا کر بھارتی فوج پسپا ہوگئی اور اس طرح یہ اہم دفاعی قلعہ بھارتی فوج کے ہاتھوں سے نکل گیا۔جوڑیاں پر قبضہ کرنے کے بعد آزاد کشمیر اور پاکستان کی فوج دریائے چناب کے کنارے اکھنور کے دروازے پر پہنچ گئی۔یہاں سے جموں شہر بارہ میل دور مشرق میں واقع ہے۔آزاد کشمیر اور پاکستانی فوج کو یہ محیر العقول کا میابیاں احمدیت کے ایک مایہ ناز سپوت میجر جنرل اختر حسین ملک کی ولولہ انگیز قیادت میں نصیب ہوئیں۔چنانچہ رسالہ چٹان لاہور کے مدیر شورش کاشمیری صاحب (شدید معاند احمدیت ) نے لکھا:۔