تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 743 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 743

تاریخ احمدیت۔جلد 23 743 سال 1966ء۔T۔۔۔۔۔۔۔۔جب مشتاق احمد باجوہ امام مسجد محمود اور احمد یہ مشن کے سربراہ حاضرین سے خطاب کے لئے کھڑے ہوئے تو ماحول پر سنجیدگی چھا گئی آپ نے محبت الہی کے موضوع پر خطاب کیا اور رمضان کی غایت بیان کی کہ وہ انسانوں کو اللہ تعالیٰ کے قریب لے جاتا ہے اور اسے خدا کی خاطر اور نوع انسانی کی بھلائی کے لئے قربانیوں کے لئے تیار کرتا ہے۔امام نے دعاؤں میں قبرص، فلسطین، کشمیر اور نائیجیریا کے برادران اسلام کو بلکہ ساری دنیا کو شامل کرنے کی تحریک کی۔یہ مسجد جماعت احمدیہ نے ، جس کا مرکز ربوہ پاکستان ہے، تعمیر کی ہے۔اور جو اسلام کے ہراول دستہ کے طور پر خدمت کے لئے وقف ہے۔اور ساری دنیا میں تعمیری کاموں میں مصروف۔جماعت اسلام کے متعلق کتب و رسائل شائع کرتی ، مساجد اور دارالتبلیغ تعمیر کرتی اور دین محمد نے کی ہر رنگ میں ترقی کے لئے کوشاں ہے۔گذشتہ نصف صدی اس جماعت کے امام حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب تھے۔جو گذشتہ نومبر میں وفات پاگئے۔حضرت حافظ مرزا ناصر احمد صاحب جو کہ عظیم عالم دینیات ہیں اور اپنے منصب کے لئے ضروری تجربہ رکھتے ہیں، خلیفہ منتخب کئے گئے ہیں۔85 166 یہ پُر اثر تقریب عربی دعا کے ساتھ انجام پذیر ہوئی۔۲۴ مئی کو سوئٹزرلینڈ کی ایک مجلس مباحثہ میں اس قرارداد پر مباحثہ ہوا کہ مسیح ابن اللہ ہیں۔ہر دو جانب سے تین تین مقررین تھے۔قرارداد کی مخالفت کرنے والوں کی قیادت مکرم چوہدری مشتاق احمد باجوہ صاحب نے کی اور عقل و نقل سے یہ بات ثابت کر کے دکھائی کہ مسیح کسی صورت میں بھی ابن اللہ نہ ہو سکتے تھے۔قرارداد کی حمایت کرنے والوں نے بھی پورا پورا زور لگایا کہ ایک انسان کو خدا پیش کرنے میں کامیابی حاصل کر لیں لیکن ایسا نہ ممکن تھا اور نہ ممکن ہوا۔امسال ۱۷ستمبر کو مسجد محمود زیورک میں ترکی میں زلزلہ کی آفت میں جانی و مالی نقصان اٹھانے والوں کے لیے اظہار ہمدردی کی غرض سے جلسہ منعقد ہوا جس کی صدارت محترم مسٹرسلیم ایچ نے کی۔اجتماع نے ہمدردی کی قرار داد بھی پاس کی جسے سفارت ترکیه برن بھیج دیا گیا نیز ایک ہزار فرینک فوراً جمع ہوئے جسے سفارت ترکیہ کو بھجوا دیا گیا۔سیرالیون مشن کی پُر جوش اور متحدہ سرگرمیوں کا آغاز ۴ ۵ ۶ فروری ۱۹۶۶ء کو ہوا جبکہ سیرالیون کی احمدی