تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 738
تاریخ احمدیت۔جلد 23 738 سال 1966ء ہیں اسی لئے اسلام ترقی پذیر ہے۔عیسائیت کے عقائد تثلیث اور حضرت مسیح علیہ السلام کے دعوئی خدائی کو ثابت کرنا آسان نہیں۔انہیں ایام میں جرمن فوج کے ستر افسر مسجد فضل عمر دیکھنے کے لئے آئے۔چوہدری صاحب موصوف نے اسلامی تعلیمات کے بارے میں تقریر کی۔ان کے سوالوں کے جواب دیئے اور لٹریچر تقسیم کیا۔واپسی پر انہوں نے آپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج پہلی مرتبہ ہمیں علم ہوا ہے کہ اسلام امن اور صلح کا مذہب ہے، اور تمام انبیاء پر ایمان لانے کو ضروری قرار دیتا ہے۔نیز اعتراف کیا کہ اسلام کے خلاف پھیلائی ہوئی غلط فہمیوں کا ازالہ نہایت عمدگی سے کیا گیا ہے۔جماعت احمد یہ جرمنی نے یکم اپریل ۱۹۶۶ ء کو ہمبرگ اور فرینکفورٹ میں عیدالاضحیہ کی مبارک تقریب پورے تزک واحتشام کے ساتھ منائی۔ہمبرگ کے ایک مشہور ہفت روزہ WELT AM SONNTAG نے ۲۷ مارچ ۱۹۶۶ء کے شمارہ میں چوہدری عبد اللطیف صاحب کا ایک مفصل انٹرویو شائع کیا جس کا ملخص یہ تھا کہ مسٹر لطیف نے اس بات پر زور دیا کہ اسلام (PRIESTHOOD) کا حامل نہیں۔اور ان کی پوزیشن PRIEST کی نہیں۔اسلام کی تبلیغ ہر مسلمان کا مذہبی فرض ہے۔اور اسلامی مسجد میں ہر مسلمان امام کے فرائض سرانجام دے سکتا ہے۔جمعہ کے روز ہمبرگ میں مقیم تمام اسلامی ممالک کے دوست نماز کی ادائیگی کے لئے حاضر ہوں گے۔اور یہ تمام اسلامی ممالک کے احباب کا یہ اجتماع اسلامی روح کو بروئے کارلانے کا زندہ ثبوت ہوگا۔ہماری اس مسجد میں جو تمام مسلمان اپنی عبادت کے ذریعہ اسلامی مساوات اور یگانگت کو عملی نمونہ سے ثابت کریں گے۔کیونکہ مسجد میں تمام مسلمان کندھے سے کندھا ملا کر قطاروں میں نماز ادا کرتے ہیں۔اور مسجد میں قومیت، رنگ اور امیر وغریب کی کوئی تفریق نہیں۔مسٹر لطیف نے مزید بتایا کہ عید سے ایک روز قبل مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں لاکھوں مسلمانوں کا اجتماع ہوتا ہے۔اور حج میں شامل ہونے والے تمام احباب کا مقام بھی ایک ہوتا ہے۔مساوات کی اس روح کو قائم کرنے کے لئے ہم بھی جمعہ کے روز اپنی اس مسجد میں خدا تعالیٰ کے حضور سر بسجو دہوں گے۔امسال ۲۳ ستمبر کو جب مولوی بشیر احمد صاحب شمس ہیمبرگ تشریف لائے تو ریلوے اسٹیشن پر جماعت کی دعوت پر ایک اہم پریس ایجنسی OCONTI PRESS کا نمائندہ بھی انٹرویو لینے آیا جسے ضروری معلومات دی گئیں نیز ہیمبرگ کے کثیر الاشاعت روزنامہ MORGENPOST نے