تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 736
تاریخ احمدیت۔جلد 23 736 سال 1966ء دنیا کے سامنے اسلامی تعلیمات کا عملی نمونہ پیش کریں۔پس اسلام کے ہر حکم پر عمل پیرا ہوں۔اور کسی چھوٹے سے چھوٹے حکم کو بھی نظر انداز نہ ہونے دیں۔نہ صرف خود بلکہ اپنے اہل وعیال کو بھی اسی رنگ میں رنگین کریں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کے ساتھ ہو۔ہماری مُستیاں اور غفلتیں دور فرمائے اور ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور ان سے عہدہ برآ ہونے کی توفیق دے۔آمین بالآخر سب احباب جماعت کی خدمت میں السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو اور ہمیشہ اپنی رحمتوں سے نوازتا رہے۔خاکسار مرزا ناصر احمد خلیفة المسیح الثالث مولا نا محمد منور صاحب نے اپنے خطبہ صدارت میں احمدی احباب کی معاونت کا تذکرہ کرتے ہوئے خاص طور پر چوہدری محمد علی صاحب نگران تعمیرات اور ٹانگا کے سابق مبلغ چوہدری رشید احمد صاحب سرور کی خدمات کو سراہا۔نیز مسٹر اندر سنگھ گل کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے لکڑی مہیا کی۔بالآخر یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ مشرقی افریقہ میں جماعت احمدیہ کی تبلیغی مساعی عیسائی دنیا کے لئے اس درجہ موجب تشویش بن چکی تھیں کہ اس سال نو مبر ۱۹۶۶ء میں مشرقی افریقہ ( کینیا، یوگنڈا، ٹانگا نیکا) کے تمام سکولوں کے سینئر کیمبرج کے سالانہ امتحان میں ہسٹری کے پرچہ میں ایک سوال یہ بھی تھا (یہ پر چہ انگلینڈ سے مرتب ہو کر آیا تھا ) کہ DESCRIBE THE WORK AND INFLUENCE IN EAST۔AFRICA OF THE AHMADIYYA MISSION یعنی مشرقی افریقہ میں جماعت احمدیہ کی تبلیغی سرگرمیوں اور ان کے نفوذ کا ذکر کریں۔جرمنی (مغربی) دوسرے ممالک کی طرح اس ملک کا احمدیہ مرکز بھی اشاعت حق میں دن رات مصروف عمل رہا اور اسلام کے بارے میں غلط فہمیوں کے ازالہ کی مہم اُس نے زورشور سے جاری رکھی۔۱۶جنوری ۱۹۶۶ ء کو مولوی فضل الہی صاحب انوری مبلغ ہمبرگ نے فرانکفورٹ کے ایک کیتھولک گرجا میں