تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 55
تاریخ احمدیت۔جلد 23 55 سال 1965ء اس سلسلہ میں حضرت میاں صاحب نے سائنس آف چانس کا ذکر فرمایا کہ جس چیز نے سائنسدانوں کو اس بات کے اقرار پر مجبور کیا ہے کہ دنیا کا بنانے والا کوئی نہ کوئی ضرور ہونا چاہیئے وہ یہ ہے کہ انہوں نے تجربات کر کے یہ معلوم کیا کہ اگر ہم دس پرزوں پر ایک سے لے کر دس تک ہند سے لکھیں تو دس میں سے ایک چانس یہ ہے کہ ہم پہلی دفعہ ہی جو پرزہ اٹھائیں اس پر ایک لکھا ہوا ہو۔اور اگر ہم چاہیں کہ پہلی دفعہ اٹھا ئیں تو نمبر ایک ہو اور دوسری دفعہ اٹھا ئیں تو نمبر دو ہو تو اس بات کا سو میں سے ایک چانس ہے اور اس طرح اگر ہم یہ چاہیں کہ پہلے ایک نمبر نکلے دو اور تین اور یہ تینوں نمبر ٹھیک اس ترتیب سے نکلیں۔تو اس کا ہزار میں سے ایک چانس ہے اور اگر ہم چاہیں کہ پہلے ایک پھر دو پھر تین اور پھر چار نکلے۔تو اس کا دس ہزار میں سے ایک چانس ہے۔گویا ترتیب کے ساتھ نمبر نکالنے کے چانسز ضرب کی صورت میں کم ہوتے چلے جاتے ہیں۔اس تھیوری کو جب انہوں نے دنیا کے نظام پر چسپاں کیا تو دیکھا دنیا کے محض اتفاقی طور پر وجود میں آجانے اور اتفاقی طور پر چلتے رہنے کا چانس تو اربوں ارب میں سے ایک ہے کیونکہ دنیا کی ہر چیز دوسری چیز کے ساتھ اس طرح وابستہ ہے کہ اگر اس وابستگی کی نسبت کو ایک ذرہ بھر بھی کم یا زیادہ کر دیا جائے تو سارا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔مثلاً زمین اور سورج اور چاند کے آپس کے فاصلے اور ایسی ہی دوسری باتیں ہیں۔اس تھیوری کے پیش نظر چوٹی کے سائنسدان بھی یہ مانے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ کوئی نہ کوئی ایسی ہستی ضرور ہونی چاہیئے جو سارے کارخانہ عالم کو پیدا کرنے والی اور چلانے والی ہو۔محترم میاں صاحب نے ایک کتاب فلاسفی آف اَیزُ اف Philosophy of Asif کا ذکر فرمایا اور بتایا کہ اس کے مصنف نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ دنیا کا ہر علم مفروضات پر مبنی ہے۔حتی کہ حساب جیسا یقینی علم بھی اگر مگر ہی کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے۔حضرت میاں صاحب نے فرمایا کہ جہاں تک ” خدا ہے“ کا تعلق ہے۔اس سلسلہ میں سب سے مؤثر دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے برگزیدوں کو غیب کی خبریں دیتا ہے اور وہ خبریں نہایت مخالف حالات کے باوجود پوری ہو جاتی ہیں۔مثال کے طور پر حضرت میاں صاحب نے عبد الکریم صاحب کو باولے کتے کے کاٹنے اور اس کے دنیاوی طور پر لا علاج ہونے کے باوجود حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانی سلسلہ احمدیہ کی دعاؤں کے طفیل اور پہلے سے دی گئی خبر کے مطابق صحت یاب ہو جانے کا ذکر فرمایا اور اس بات کو اس امر پر دلیل ٹھہرایا کہ اللہ تعالیٰ کی ہستی موجود ہے۔اور وہ لوگ جو اس علم میں Specialise