تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 720
تاریخ احمدیت۔جلد23 720 سال 1966ء ہوگا تو اس نے چنیوٹ (پنجاب) سے مولوی منظور احمد چنیوٹی کو سیرت النبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کا جلسہ رکھ کر بلایا۔جس نے احمدیوں کے خلاف سخت بدزبانی اور اشتعال انگیزی کرتے ہوئے جلسہ میں یہ فتویٰ سنایا کہ احمدیوں کو ووٹ دینا حرام ہے۔چنیوٹی نے جلسہ میں بار بار مقامی جماعت کو بلکہ مقامی مربی سلسلہ خاکسار راقم الحروف کا نام لے کر مباحث و مباہلہ کا چیلنج دیا۔مقامی جماعت کے نمائندوں نے محمد منظور احمد صاحب (ایڈووکیٹ) کی سرکردگی میں فوراً جلسہ کے دوران ہی انہیں یہ تحریر حاضر ہو کر پہنچا دی کہ ہم مباحثہ ومباہلہ دونوں کے لئے تیار ہیں۔اس کے لئے وقت اور تاریخ اور دیگر شرائط ہم سے طے کی جائیں۔اب مولوی منظور احمد چنیوٹی نے ذرا سنبھل کر مباحثہ اور مباہلہ دونوں سے یہ کہہ کر گریز کیا میں مباحثہ نہیں مباہلہ کروں گا اور مباہلہ بھی مقامی جماعت سے نہیں جماعت احمدیہ کے مرکزی خلیفہ ربوہ سے کروں گا۔حالانکہ وہ مقامی جماعت کو بار بار مباہلہ ومباحثہ کا چیلنج دے چکے تھے کہ میں اُن کے کسی بھی نمائندے سے مباہلہ و مباحثہ کرنے کے لئے تیار ہوں جو بھی سامنے آجائے۔اگر چہ ہم جانتے تھے کہ یہ سب انتخابی سٹنٹ ہے۔تاہم اتمام حجت کے لئے خاکسار نے مولوی منظور احمد چنیوٹی کو چنیوٹ کے پتہ پر جبکہ وہ کوٹلی سے جلدی جاچکے تھے ، ایک رجسٹری خط بھیجا جس میں لکھا گیا تھا کہ اگر وہ بچے ہیں اور مقامی سیاسی کھلاڑیوں کے آلہ کار بن کر محض فرقہ وارانہ نفرت پھیلانا نہیں چاہتے تو قرآنی شرائط اور سنت نبوی کے مطابق اس مباہلہ کی دعوت کو قبول کرلیں جو سب سے پہلے بانی سلسلہ احمدیہ نے اپنی کتاب انجام آتھم میں تمام علماء ہند اور گدی نشینوں کو دی تھی اور آج بھی شائع شدہ موجود ہے کیونکہ تاحال کسی عالم نے اس دعوت کو قبول نہیں کیا۔خط میں یہ بھی درج کیا گیا کہ ایک ماہ کے اندراس خط کا جواب دے دیں۔اگر انہوں نے کوئی جواب نہ دیا تو اُن کا مباحثہ ومباہلہ دونوں سے فرار سمجھا جائے گا۔عذرات کو توڑنے کے لئے اس خط کی نقول رجسٹری کر کے کوٹلی کے ان معززین کو بھی بھیجی گئیں جنہوں نے مولوی چنیوٹی کو بلا کر جلسہ کرایا تھا۔مگر نہ ایک ماہ کے اندر نہ ایک ماہ کے بعد مولوی چنیوٹی نے کوئی جواب دیا نہ اس کے مقامی بلانے والوں نے کسی کی طرف سے جواب نہ ملنے پر خاکسار نے ایک اور پمفلٹ ” مولوی منظور احمد چنیوٹی کا مباحثہ و مباہلہ سے فرار کے نام سے کوٹلی سے شائع کیا اور لوگوں میں تقسیم کیا۔ایک پمفلٹ مولوی منظور احمد چنیوٹی کو بھی بذریعہ ڈاک بھیجا گیا۔مگر کسی طرف سے صدائے برنخو است۔اس مکمل خاموشی اختیار کر لینے سے صاف ظاہر ہو گیا کہ یہ جلسے محض انتخابی سٹنٹ ہی تھے۔صرف مذہب کے نام سے سادہ لوح عوام کے جذبات انگیخت کئے جارہے تھے جن کو