تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 719 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 719

تاریخ احمدیت۔جلد 23 رکھیں۔پھر حضور نے اجتماعی دعا کروائی۔719 جماعت ہائے احمدیہ آزاد کشمیر کا دوسرا سہ روزہ جلسہ سالانہ سال 1966ء جماعت ہائے احمدیہ کوٹلی آزاد کشمیر کا دوسرا سہ روزہ سالانہ تربیتی اجتماع مورخه ۲۴ تا ۶ ۲ نومبر ۱۹۶۶ء منعقد ہوا۔اس جلسہ کی نہایت ایمان افروز کا رروائی بیان کرتے ہوئے مکرم محمد اسد اللہ کاشمیری صاحب مربی سلسلہ احمد یہ رقمطراز ہیں کہ سینکڑوں غیر از جماعت احباب نے بھی جلسہ میں شامل ہوکر استفادہ کیا۔متعدد لاؤڈ سپیکر کا انتظام تھا۔اجتماع میں جہلم، میر پور، راولپنڈی اور آزادکشمیر کے اطراف واکناف سے احباب شامل ہوئے۔جمعیت اہلحدیث کو ٹلی نے بھی انتظامی امور میں جماعت سے تعاون کیا۔ربوہ سے بھی علمائے کرام تشریف لائے ہوئے تھے۔مستورات نے بھی جلسہ سُنا۔جلسہ گاہ اور سٹیج رنگ برنگ جھنڈیوں، قرآنی آیات تبلیغی عبارات اور دینی اشعار پر مشتمل درجنوں قطعات اور خوشنما بورڈوں سے مزین کیا گیا تھا۔تقاریر کوریکارڈ کرنے کے لئے ریکارڈنگ مشین بھی لگائی گئی تھی۔تصاویر لینے کے لئے فوٹوگرافروں کا بھی انتظام تھا۔رضا کار اور خدام جلسہ گاہ کے ارد گرد مختلف ڈیوٹیوں پر متعین تھے۔جلسہ گاہ کا گیٹ خوشنما قطعات سے آراستہ بار وفق اور مزین تھا۔ربوہ کے نمونہ پر سٹیج لکڑیوں کے شہتیروں اور تختوں سے بنایا گیا تھا۔سٹیج کے اوپر خیمہ تانا گیا تھا۔گیٹ پر بک سٹال بھی لگایا گیا تھا۔ہنگامی حادثات فوری علاج معالجہ اور طبی ضروریات کے پیش نظر ظفر احمد صاحب کلیم نامی ڈاکٹر بھی مقرر کیا گیا تھا غرضیکہ ہر ضرورت کا خیال رکھا گیا تھا۔تین دن تک مسلسل چھ اجلاس ہوئے جن میں مکرم صاحبزادہ مرزار فیع احمد سلمہ اللہ مکرم مولانا دوست محمد شاہد صاحب ، مکرم مولانا محمد شفیع صاحب اشرف اور خاکسار راقم الحروف نے سیرت النبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) ، صداقت بانی سلسلہ احمدیہ، وفات حضرت عیسی علیہ السلام کے عنوانات پر تقاریر کیں۔باہمی مسلم فرقوں کے اتحاد کی ضرورت واہمیت بھی بیان کی گئی اور مختلف سوالات کے جوابات بھی دیئے گئے۔جلسہ کے دوررس اثرات ظاہر ہوئے متعدد بیعتیں ہوئیں۔لوگوں کی مزید تسکین کی خاطر جلسہ کے معابعد خاکسار نے لوگوں کےسوالات کے جوابات میں ایک کتابچہ جماعت احمدیہ سے متعلق بعض سوالات کے جوابات کے نام سے لکھا جسے جماعتہائے احمدیہ آزاد کشمیر نے کوٹلی سے شائع کیا اور سارے آزاد کشمیر میں تقسیم کیا جس سے متعصب طبقہ کی پھیلائی ہوئی مزید غلط فہمیاں دور ہو گئیں۔کوٹلی کے متعصب طبقہ نے جبکہ بنیادی جمہوریتوں کے انتخابات قریب آرہے تھے اور انہیں یقین تھا کہ احمدی امیدوار محمد منظور احمد (ایڈووکیٹ ) سے مقابلہ