تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 718
تاریخ احمدیت۔جلد 23 718 سال 1966ء ان دنوں بھارت میں جن سنگھ ، آریہ سماج، ہندو مہا سبھا، سناتن دھرم اور دیگر ہندو فرقے بھیا نک اندولن کر رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ہندو دھرم میں گائے کو ایک پوتر اور پوجیہ جانور مانا گیا ہے اور وہ دھرم گرنتھوں میں گئو کا مارنا اور اس کا ماس کھانا مہا پاپ مانا گیا ہے۔میرے نزدیک یہ خالصۂ ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسے دھرم کا روپ دیا گیا ہے۔شاید اسی باعث بھارت کی سیکولر حکومت نے بھی اعلان کر دیا ہے۔کہ بے شک ہندو گر تھوں میں گائے کی تقدیس پائی جاتی ہے۔اس سے مرکز کو انکار نہیں۔اسی لئے اُس نے ہر صوبہ کو اختیار دیا ہے کہ اگر وہ اپنے صوبہ میں ایسی کوئی پابندی لگانا چاہے تو وہ اس کا مجاز ہے۔لیکن دراصل ایسا کر کے مرکز نے ایک تیر سے دونشانے لگانے کی کوشش کی ہے۔ہندؤوں کو گٹو کی تقدیس کے اعتراف سے چپ کرا دیا اور مسلمانوں کا منہ اس طرح بند کر دیا کہ مرکز نہیں صوبے ایسی پابندیاں لگارہے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ بھارت کی ایسی ہی دوغلی پالیسیوں نے آج اُسے دنیا بھر میں بدنام کر رکھا ہے۔میں کانگریس کے ان کٹر ہند ولیڈروں کو اور ہندومہاسبھائیوں کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ اپنی پستکوں سے ایک حوالہ بھی ایسا نکال کر دکھا ئیں۔جس میں گائے کا مارنا پاپ اور اس کا ماس کھانا مہا پاپ لکھا ہو۔میرا یہ چیلنج آریہ سماجی لیڈروں، پنڈتوں ، ہندو یونیورسٹی بنارس اور دیگر تمام ہندو نیتاؤں کو ہے۔جو اس مفروضہ پر ایمان رکھتے ہیں۔وہ میرے پھیلنج کا جواب اپنے اخبارات میں شائع کریں۔تاکہ بیرونی دنیا کو یہ معلوم ہو کہ اس خطر ناک مطالبہ کی بنیاد کس پر ہے۔اور بیرونی دنیا یہ تسلیم کرنے میں حق بجانب ہوگی کہ سارا ڈھونگ صرف اور صرف بھارت کے مسلمانوں کے قتل عام کے لئے رچایا گیا ہے۔ور نہ میں ثابت کر دکھاؤں گا کہ ہند و پستکوں اور گرنتھوں کی رو سے گائے کا کھانا پاپ نہیں ثواب ہے بلکہ جو اسے نہیں کھا تا وہ پاپی ہے! خادمِ اسلام۔مہاشہ محمد عمر سابق یوگندر پال معرفت ہفتہ وار لاہور بیڈن روڈ لاہور مسجد نصرت دستگیر کراچی کا سنگ بنیاد حضرت خلیفة المسیح الثالث نے مورخہ ۲۳ نومبر ۱۹۶ء کو بعد نماز فجر مسجد نصرت دستگیر کراچی کا سنگ بنیا درکھا۔حضور نے ایک اینٹ لے کر دیر تک دعا کی پھر اس کو نصب فرمایا۔اس کے بعد 4 مزید اینٹیں صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور امیر صاحب جماعت احمد یہ کراچی و مربیان سلسلہ نے