تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 715 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 715

تاریخ احمدیت۔جلد 23 715 سال 1966ء نیز صومالیہ کے حالات اور اندرونی مسائل کا ذکر کر کے اپنے ملک کی خوشحالی اور استحکام کے لئے دعا کی درخواست کی۔ایک یورپین دوست کی بیعت رسالانہ اجتماع مجلس انصارالله مرکز یہ ربوہ منعقدہ ۲۸ تا ۳۰ اکتوبر ۱۹۶۶ء کے موقع پر حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اسکاٹ لینڈ کے رہنے والے نو مسلم دوست عبدالجبار ہیل صاحب کی بیعت قبول فرمائی۔یہ صاحب ۲۰ سال قبل برصغیر آئے تھے۔یہیں مسلمان ہوئے اور یہیں شادی کی۔آپ کراچی کے بعض احمدی احباب کے زیر تبلیغ تھے۔گوردوارہ میں سکھوں کو تبلیغ ۲۸ نومبر ۱۹۶۶ء کوسید غلام مہدی صاحب ناصر مبلغ سلسلہ عالیہ احمدیہ نے گوردوارہ موسیٰ بنی مائنز میں حضرت گورونانک کی سوانح ، آپ کے مسلمانوں سے تعلقات اور تعلق باللہ پر روشنی ڈالی۔اس سلسلہ میں انہوں نے نہایت زور دار الفاظ میں حضرت گور و بابا نانک علیہ الرحمۃ کی درج ذیل پیشگوئی کا تذکرہ کیا:۔تاں مردانے پچھیا گورو جی! کبیر بھگت جیہا کوئی ہور بھی ہوئیا ہے۔سری گورونانک جی آکھیا۔مردانیاں ! اک جھیٹا ہوسی۔پر اساں توں پیچھے سو برس توں بعد ہوسی۔پھر مردانے نے پچھیا کیہڑے تھا ئیں اتے ملک وچ ہوسی۔تاں گورو کیہا مردانیاں ! وٹالے دے پر گنے وچ ہوسی۔سن مردانیاں ! 3 نر نکار دے بھگت سب اگو رُوپ ہندے ہن۔پر اوہ کبیر بھگت نالوں وڈا ہوسی۔یعنی مردانے نے پوچھا کہ گورو صاحب! کوئی کبیر بھگت سے بڑا اور بھی گورو ہوگا۔اگر ہوگا تو کہاں اور کب ہوگا۔تو گور و صاحب نے فرمایا کہ آنے والا گور و ہم سے سو برس کے بعد آئے گا اور وہ جٹ یعنی زمیندار ہوگا اور وٹالے کے پر گنے میں، یعنی تحصیل بٹالہ میں آئے گا۔جوصو بہ پنجاب ضلع گورداسپور کی ایک تحصیل ہے۔اور یہ کہ وہ کبیر بھگت سے بڑا ہوگا۔اس پیشگوئی کے مطابق سکھوں کی دسویں بادشاہی کے سوسال بعد قادیان تحصیل بٹالہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو مبعوث فرما کر گوروجی کے خدا تعالیٰ سے بچے تعلق کا عملی ثبوت بہم پہنچا دیا۔اس تقریر کے بعد صو بیدار کرتار سنگھ صاحب منتظم گور پرپ کپور تھلوی نے اپنی طرف سے