تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 698
تاریخ احمدیت۔جلد 23 698 سال 1966ء جس کی پٹھانی میں کوئی شبہ نہیں تھا وہ کہتا ہے میں احمدی ہوں۔حالانکہ ممکن ہے کہ اکبر شاہ خان صاحب کسی اور قوم سے ہوں لیکن پٹھانوں میں رہنے کی وجہ سے پٹھان کہلانے لگ گئے ہوں۔حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب تحریر فرماتے ہیں:۔نیک محمد خان صاحب غزنوی حضرت خلیفہ ثانی کے عاشق صادق خادم تھے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت خلیفہ ثانی کو انعام کے رنگ میں عطا ہوئے تھے۔صفاتی لحاظ سے نیک محمد خان صاحب کا شمار طیور میں ہوتا ہے جس طرح حضرت سلیمان علیہ السلام کو ان کے لشکر کے لیے تین اقسام کے وجود عطا ہوئے جیسا قرآن کریم فرماتا ہے: وَحُشِرَ لِسُلَيْمَن جُنُودُهُ مِنَ الْجِنَّ وَالْإِنْسِ وَالطَّيْرِ فَهُمْ يُوزَعُونَ (النمل: ۱۸) یعنی ( کسی وقت کسی ملک پر چڑھائی وغیرہ کے وقت ) حضرت سلیمان کے لیے جن وانس اور طیر قسم کے لشکر جمع کئے گئے تھے۔اسی طرح کی عطا حضرت خلیفہ اسیح الثانی کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوئی تھی۔یعنی آپ کو ذی وجاہت احباب بھی عطا ہوئے۔حضور کو اس قسم کے احباب بھی ملے جو عالم دین تھے۔انہوں نے حضور کی معیت اور تائید میں انتھک علمی خدمت انجام دی۔جیسے حضرت قاضی اکمل صاحب، حضرت مولوی محمد اسماعیل صاحب، حضرت مولوی شمس صاحب اور محترم شیخ عبدالقادر صاحب۔تیسری قسم عطا طیور کا ملنا تھی۔یہ وجود بھی حضور کو عطا ہوئے۔ان میں حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی اور نیک محمد خان صاحب غزنوی مرحوم شامل ہیں تم مکرم نیک محمد خان صاب نے سالہا سال تک حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی والہانہ طور پر خدمت انجام دی۔چونکہ اس عاجز کو بھی ۱۹۱۸ء سے شرف خادمیت محمود حاصل ہو گیا تھا۔بدیں وجہ مجھے نیک محمد خان صاحب مرحوم کی خدمت کے کارنامے دیکھنے کا اکثر موقعہ ملتا رہا۔جیسا کہ میں نے آپ کو طیور کے گروہ میں شمار کیا ہے۔سو آپ ہمیشہ طیور کی سی سُبک رفتاری کے ساتھ کام انجام دیتے تھے۔میلوں میل دوڑ کر حضور کی ڈاک مطلوبہ جگہ پر پہنچانا آپ کے بائیں ہاتھ کا کام تھا۔۱۹۲۱ء میں حضور نے کشمیر کا سفر کیا تھا۔حضور کی معیت میں علاوہ اہل بیت کے جملہ صاحبزادے اور صاحبزادیاں بھی تھیں۔نیز حضرت اماں جان اور حضرت اماں جی (اہل بیت حضرت خلیفہ اوّل) مع تین بچوں کے بھی شامل تھے۔حضور نے سفر کے آخری حصہ میں احمدیوں کے ڈار خاندان ناسنور