تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 697 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 697

تاریخ احمدیت۔جلد 23 697 سال 1966ء لگانا ذرا مشکل ہوتا ہے کہ وہ درحقیقت کون ہیں۔ممکن ہے وہ پٹھان ہوں یا ممکن ہے کسی اور قوم سے تعلق رکھتے ہوں اور پٹھانوں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے پٹھان کہلانے لگ گئے ہوں لیکن کہتے وہ یہی ہیں کہ وہ پٹھان ہیں۔ہماری جماعت کے ایک دوست اکبر شاہ خان صاحب نجیب آبادی ہوا کرتے تھے ان کی قوم بھی پٹھان کہلاتی تھی۔ان کے باپ دادے کئی سو سال ہوئے ہندوستان میں آئے تھے۔لیکن انہیں پٹھان ہونے پر بہت فخر تھا۔وہ بھی حضرت خلیفتر امسیح الاوّل کی تیمارداری کے لیے آئے۔معلوم نہیں ان کے دل میں حضرت خلیفہ المسیح الاوّل کی کتنی محبت تھی۔لیکن ظاہر وہ یہی کیا کرتے تھے کہ انہیں آپ سے بڑی عقیدت ہے۔جب انہوں نے سنا کہ حضور گھوڑے سے گر پڑے ہیں اور بے ہوش ہو گئے ہیں تو وہ گھبرا کر آئے اور انہوں نے اندر جانا چاہا۔دروازہ پر نیک محمد خان صاحب کھڑے تھے انہوں نے اندر جانے سے روکا۔بعض لوگوں کو اپنی قومیت پر حد سے زیادہ غرور ہوتا ہے اکبر شاہ خان صاحب نجیب آبادی کو بھی اپنی قومیت پر فخر تھا۔حالانکہ ان کے باپ دادے کئی سو سال ہوئے ہندوستان آئے تھے۔انہوں نے کہا مطلب؟ نیک محمد خان صاحب نے کہا کہ اندر جانا منع ہے۔انہوں نے کہا میں نہیں جانتا، کس نے اندر جانا منع کیا ہے۔میں ضرور جاؤں گا۔چنانچہ وہ پھر آگے بڑھے۔اس پر نیک محمد خان صاحب نے انہیں دھکا دے دیا۔اکبر شاہ خان صاحب نجیب آبادی کو غصہ آیا اور انہوں نے کہا تم نہیں جانتے میں کون ہوں؟ میں پٹھان ہوں۔گویا وہ چار پانچ سو سال کی پٹھانی کا رعب ایک نئے آنے والے پٹھان پر ڈالنے لگے۔نیک محمد خان صاحب نئے نئے احمدیت میں آئے تھے اور احمدیت کی وجہ سے انہوں نے دکھ اور تکالیف برداشت کی تھیں۔اس لیے ان کا جوش تازہ تھا۔جس وقت اکبر شاہ خان صاحب نجیب آبادی نے کہا کہ تمہیں پتہ ہے میں کون ہوں؟ میں پٹھان ہوں تو نیک محمد خان صاحب نے کہا تمہیں پتہ نہیں میں کون ہوں؟ میں احمدی ہوں۔اب دیکھ لو جس کی پٹھا نیت مشتبہ تھی وہ تو یہ کہتا ہے کہ میں پٹھان ہوں۔لیکن