تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 696
تاریخ احمدیت۔جلد 23 696 سال 1966ء کا طویل عرصے تک خصوصی شرف حاصل ہوا۔حضرت مصلح موعود کے بہت محبوب اور فدائی اور جاشار محافظ خاص تھے۔ایاز کی طرح سیدنامحمود المصلح الموعود کے ہر حکم کی تعمیل کرنا اپنی سب سے بڑی سعادت سمجھتے تھے۔اس سلسلہ میں سیدنا حضرت مصلح موعود نے ان کے اخلاص اور فدائیت کا ایک ایمان افروز واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:۔حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل جب گھوڑے سے گرے تو آپ کی صحت کو سخت دھکا لگا اور آپ بے ہوش ہو گئے۔لوگوں کو پتا لگا تو وہ آپ کی خبر لینے آجاتے اور پھر سوال بھی کرتے۔بے ہوشی میں اس قسم کے سوال کرنے مضر ہوتے ہیں اس لیے ڈاکٹروں نے منع کیا ہوا تھا کہ آپ کے کمرہ میں کوئی نہ جائے۔چنانچہ میں نے آپ کے کمرہ کے دروازے بند کر دیئے اور نیک محمد خان صاحب افغان کو مقر ر کیا کہ وہ کسی کو اندر نہ جانے دیں۔نیک محمد خان احمدیت میں نئے نئے آئے تھے اور افغانستان کے اچھے شریف خاندان میں سے تھے۔اُن کا باپ ایک صوبہ کا گورنر تھا۔جب احمدیت قبول کر لینے کی وجہ سے اُن کی مخالفت شدت اختیار کرگئی تو وہ قادیان آگئے۔اُس وقت ان کی عمر ۱۶، ۷ اسال کی تھی۔اس کے بعد وہ قادیان میں ہی رہے۔نیک محمد خان صاحب بہت پست اور ہوشیار تھے۔اس لیے میں نے انہیں پہرہ پر مقرر کیا اور ہدایت کی کہ وہ کسی شخص کو اندر نہ جانے دیں اور انہیں خاص طور پر بتایا کہ دیکھو بعض دفعہ انسان سے غلطی ہو جاتی ہے کوئی بڑا آدمی آ جاتا ہے تو خیال آتا ہے کہ شاید وہ حکم اس کے لیے نہ ہو۔اس لیے یاد رکھو کہ کوئی چھوٹا ہو یا بڑا سوائے ڈاکٹروں اور ہم لوگوں کے جو خدمت پر مامور ہیں تم کسی شخص کو اندر نہ جانے دو۔وہ کہنے لگے بہت اچھا۔شام کے وقت میں آیا تو دیکھا کہ بعض لوگ چہ مگوئیاں کر رہے ہیں۔نیک محمد خان نوجوان تھے۔سولہ سترہ سال کی عمر میں قادیان آئے تھے اور ایک شریف خاندان سے تھے ان کا باپ ایک معزز آدمی تھا اس وجہ سے ان کے پٹھان ہونے میں کوئی شبہ نہیں تھا۔لیکن ایک اور قسم کے پٹھان بھی ہمارے ملک میں ہوتے ہیں۔جن کے باپ دادے چار پانچ سوسال ہوئے ،اس ملک میں آئے ، وہ بھی اپنے آپ کو پٹھان کہتے ہیں۔لیکن چونکہ ایک لمبا عرصہ گزر جاتا ہے اس لیے یہ پتہ