تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 695
تاریخ احمدیت۔جلد 23 695 سال 1966ء ارحم الراحمین خدا انہیں ان کے اعمال کا بہترین بدلہ عطا فرمائے۔آمین شیخ عبدالقادر صاحب سلسلہ احمدیہ کے ہمہ وقت خادم تھے اور انہوں نے سچی خدمت بجالانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔اللہ تعالیٰ نے انہیں تقریر کے علاوہ تحریر کا بھی عمدہ ملکہ عطا فرمایا تھا۔انہوں نے سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ایک مفید مجموعہ مرتب کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سوانح پر ایک مبسوط کتاب لکھی حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کے حالات پر جامع تالیف شائع کی۔حضرت قمر الانبیاء مرزا بشیر احمد صاحب کے متعلق ایک کتاب مدوّن کی۔ابھی آخری دنوں لاہور کی تاریخ احمدیت پر ایک مستند کتاب شائع کی۔شیخ صاحب کو کام کی دھن تھی۔جب کہا جاتا کہ آپ کو اتنی جلدی کیا ہے تو کہتے جو کام ہو جائے وہی بہتر ہے۔شیخ عبدالقادر عالم باعمل تھے۔صاحب رؤیا تھے۔اپنی وفات کے متعلق بھی انہوں نے تازہ رویا دیکھی تھی جسے لاہور میں کئی احباب کو سنا چکے تھے جو حرف بحرف پوری ہوگئی۔میرے ساتھ قلبی انس کا نتیجہ تھا کہ وہ اپنی کئی خوابوں میں اپنے آپ کو میرے ساتھ دیکھتے تھے۔میرے ساتھ اس طرح پیش آتے تھے جس طرح مخلص شاگرد پیش آتے ہیں اور کہا بھی کرتے تھے کہ میں آپ کا شاگرد ہوں۔بہت ہی خوبیوں کے مالک تھے، ایسے مخلص بھائی اور وفادار عزیز دوست بہت ہی کم ملتے ہیں۔ان کی وفات ایک جماعتی صدمہ ہے۔مشرق اور مغرب کی تمام احمدی جماعتیں ان کی یاد میں افسردہ اور دعا گو ہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ عزیز بھائی شیخ عبد القادر کو جنت الفردوس میں بلند مقام عطا فرمائے اور ان کے درجات ہمیشہ بلند فرماتا رہے۔آمین مکرم شیخ عبد الماجد صاحب اقبال اور احمدیت وغیرہ کتب کے مصنف آپ کے بیٹے تھے۔نیک محمد خان صاحب غزنوی وفات: ۱۸ نومبر ۱۹۶۶ء افغانستان کے ایک نہایت معزز خاندان کے چشم و چراغ تھے۔اسال کی عمر میں قبول احمدیت سے مشرف ہوئے اور ۱۹۰۶ ء میں بذریعہ خط حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بیعت کی سعادت حاصل کی۔آپ کے والد مکرم امیر احمد خاں صاحب ایک صوبہ ( غزنی) کے گورنر تھے۔حق کی خاطر آپ نے ۱۹۰۹ء میں اپنے وطن سے ہجرت کر کے مستقل طور پر قادیان میں بود و باش اختیار کر لی۔آپ کو حضرت اماں جان ، حضرت مصلح موعود اور خاندانِ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت کرنے