تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 693 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 693

تاریخ احمدیت۔جلد 23 693 سال 1966ء لگے۔چند منٹ اسی حالت میں کھڑے رہے اور پھر بیٹھ گئے اور اشارہ سے مجھ سے معذرت کی کہ وہ هدت جذبات سے تقریر نہ کرسکیں گے۔پھر حضرت خلیفہ امسیح الثالث کی ایک پرانی تصویر مجھے دی اور کہنے لگے کہ میں نے حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کے قیام لندن میں ان میں تقویٰ اور پاکیزگی کا مشاہدہ کیا اور ان سے بہت کچھ سیکھا۔اور بار بار کہنے لگے کہ مجھے ان کے خلیفہ منتخب ہونے کی بے حد خوشی ہے۔مسٹر بلال محل مسجد فضل کے ہر امام اور مبلغ سے محبت رکھتے تھے اور ہر موقع پر خدمت دین کے لئے حاضر رہتے تھے۔ڈاکٹر عبدالرحمن صاحب رانجھا وفات ۶۔نومبر ۱۹۶۶ء آپ حضرت مولوی شیر علی صاحب کے فرزند اکبر تھے۔چھوٹی عمر میں آپ کو سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا گیا حضور نے آپ کے سر پر دستِ مبارک پھیر کر برکت بخشی۔ظاہری اور باطنی اعتبار سے اپنے والد ماجد کا نمونہ اور فرشتہ سیرت وجود تھے۔بہت دیندار، رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے والے اور ابتلاؤں میں کو ہ استقلال تھے۔وفات پر بہت سا روپیہ وصیت کے حساب میں زائد پایا گیا۔101 مولانا شیخ عبد القادر صاحب مربی سلسلہ احمدیہ (سابق سود اگر مل ) وفات : ۱۸نومبر ۱۹۶۶ء شروع ۱۹۲۵ء میں حضرت میاں محمد مراد صاحب آف پنڈی بھٹیاں کی تحریک اور تبلیغ۔ہندومت چھوڑ کر احمدیت قبول کی اور حضرت مصلح موعود کے دستِ مبارک پر بیعت کا شرف حاصل کیا۔آپ اپنی بیعت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔اللہ اللہ ! وہ نظارہ بھی کیا عجیب تھا۔حضور نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔آپ بیعت کے الفاظ ارشاد فرماتے اور میں ان الفاظ کو دہراتا جاتا تھا۔گناہوں سے تو بہ کرنے کا احساس دل میں تھا۔سردی کے موسم میں جسم پسینہ سے شرابور ہورہا تھا تو روح کسی عالم بالا میں پرواز کر رہی تھی۔ایک نئی زمین ہے جس پر میں قدم رکھ رہا ہوں اور ایک نیا آسمان ہے جو میرے لیے سایہ لگن ہے۔غرضیکہ ایک عجیب کیفیت تھی جو مجھ پر طاری تھی اور ایک ایسا سماں تھا جس کو میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا“