تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 692
تاریخ احمدیت۔جلد 23 692 سال 1966ء تھے اسے سن کر تو میری حیرت کی کوئی حد نہ رہتی تھی۔آپ نے مجھ کو اپنی شخصیت سے بے حد متاثر کیا۔آپ کے خطبات بہت فکر انگیز اور بصیرت افروز ہوتے تھے۔انگلستان میں مشن کے قیام اور مسجد لندن کی تکمیل کے اوائل زمانہ میں مسجد لندن کے امام آپ کے موصول ہونے والے خطبات کا انگریزی میں ترجمہ کر کے مجھے سنایا کرتے تھے۔میں بہت لطف اندوز ہوتا تھا۔وہ ایام جب میں آپ کے خطبات کے تراجم سنا کرتا تھا میری زندگی کے انتہائی پر مسرت ایام تھے۔مجھے خوب یاد ہے کہ ابتداء میں امام مسجد فضل لندن مولا نا عبدالرحیم صاحب در دمرحوم اور جناب ملک غلام فرید صاحب نے مجھے عربی میں نماز پڑھنی سکھائی۔بعد ازاں مولا نا درد نے اصرار کیا کہ میں اذان کے الفاظ بھی یاد کروں اور اسلامی اذان سیکھوں۔چنانچہ میں نے اس پر دسترس حاصل کی اور اذان دینی شروع کر دی۔اس پر حضرت صاحب کی طرف سے گرامی نامہ موصول ہوا جو میرے متعلق اس ارشاد پر مشتمل تھا کہ آئندہ سے مجھے بلال کہہ کر پکارا جائے کیونکہ میں انگلستان کا اور مسجد فضل لندن کا پہلا انگریز مؤذن ہوں۔یہ میرے لیے ایک بہت بڑا اعزاز تھا۔اس وقت سے میں یہ محسوس کرنے لگا کہ میں ایک بہت بڑی تنظیم سے منسلک ہونے کے باعث ایک بڑی مشین کے کارآمد پرزہ کی حیثیت رکھتا ہوں۔احمد بیت قبول کرنے کے بعد سے میں زندگی بھر اسلام سیکھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتا رہا ہوں۔اس کوشش میں میں کس حد تک کامیاب یا نا کام ہوں ؟ اس کا علم خدا ہی کو ہے۔تا ہم مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں اپنے عظیم المرتبت امام کا انتہائی طور پر ممنون احسان ہوں۔اس لیے کہ آپ نے مجھے اور ہم سب کو قرآنی صداقتوں سے بہرہ ور کرنے والی بصیرت عطا فرمائی۔گزشتہ نصف صدی میں آپ نے جو عظیم الشان کارنامے سرانجام دیئے انہیں شمار کرنا کار دارد ہے۔جو کچھ آپ نے کر دکھایا موجودہ زمانہ میں اس کا اور اس کی اہمیت کا صحیح ادراک ممکن نہیں۔مستقبل بعید میں جب آپ کے کارناموں کے نتائج پوری طرح منظر عام پر آئیں گے تب ہمیں کما حقہ احساس ہوگا کہ عالم انسانیت کی آپ نے کیسی عظیم المرتبت خدمت سرانجام دی۔جناب بشیر احمد صاحب رفیق سابق امام مسجد فضل لندن کا بیان ہے کہ جب حضرت مصلح موعود کی وفات کی خبر موصول ہوئی تو ہم نے مسجد میں فوراً ایک تعزیتی جلسہ کا انعقاد کیا۔بلال بھی آئے ہوئے تھے۔خاکسار نے ان کو بھی کچھ کہنے کی دعوت دی۔آپ آگے آئے اور حضور کا نام لے کر زار و قطار رونے 99