تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 685
تاریخ احمدیت۔جلد 23 685 سال 1966ء دونوں ہاتھوں میں تھام لیا اور نہایت صدق دل سے وہ الفاظ دہرا تا رہا۔عہد کے بعد آپ نے فرمایا کہ مجھے خط لکھتے رہنا۔چکوال پہنچ کر میاں محمد شریف صاحب ( جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے ) سے ملک صاحب نے ڈویژن کا چارج لیا اور چند فیصلے مجھے لکھوائے۔اگلی صبح سردار مکھن سنگھ صاحب کورٹ انسپکٹر مجھے ملنے کے لیے آئے اور آتے ہی بڑی صفائی سے ۵۰ روپے کے نوٹ میرے ہاتھ میں تھما دیئے اور کہا کہ صرف یہ بتا دو کہ فلاں مقدمہ میں کتنی سزا ہوئی ہے؟ میں نے حیرانگی سے نوٹوں کو دیکھا۔حضرت میر صاحب میرے سامنے آگئے اور گھور نے لگے۔میں نے بڑی جرات سے کہا کہ سردار صاحب! پہلے ایس۔ڈی۔اومیاں محمد شریف صاحب بھی احمدی تھے۔ملک صاحب بھی احمدی ہیں اور میں بھی احمدی ہوں۔ہم لوگ نہ ایسا کام کرتے ہیں نہ کریں گے۔اپنے نوٹ واپس لیں۔وہ بڑی لجاجت سے کہنے لگے کہ تم نے طلب تو نہیں کئے میں خوشی سے دے رہا ہوں۔میں نے کہا مجھ سے کسی ایسی بات کی توقع نہ رکھیں اور وہ مایوس ہو کر چلے گئے۔قریباً پانچ دن تک ایسا ہی ہوتا رہا کہ کوئی نہ کوئی وکیل رشوت دیکر مجھ سے دریافت کرنے آجاتا کہ صرف دو گھنٹے ہی قبل از وقت بتا دو کہ فلاں مقدمہ میں کیا فیصلہ ہوا ہے مگر سب مجھ سے مایوس ہی واپس لوٹتے۔اس تسلسل سے مجھے کچھ حیرت ہوئی اور میں نے محترم ملک صاحب کی خدمت میں حضرت میر صاحب سے اپنی بیعت کا واقعہ اور رشوت کا حال عرض کر دیا۔اس پر ملک صاحب نے اپنی کوٹھی پر پولیس کا پہرہ لگوا دیا تا کہ کوئی اندر ہی نہ آسکے۔دوسرے مجھے ہدایت کر دی کہ فیصلہ شدہ مقدمات کی امثلہ لے کر کچہری جانے سے 10 منٹ قبل ان کے کمرے میں آجایا کروں وہاں سے ہم دونوں اکٹھے نکلا کرتے تھے اور کمرہ عدالت میں جاتے ہی وہ فیصلے سنادیتے۔ملک صاحب موصوف بہت وجیہہ انسان تھے۔لحیم شحیم اور ضلع سرگودھا کے مردانہ حسن کا اعلیٰ نمونہ تھے۔کچہری کے وقت انگریزی لباس پہنتے اور وہاں سے واپس آکر ضلع سرگودھا کے رواج کے مطابق کھلے گلے کا کرتا اور لا چا پہن لیتے۔جمعہ اور عیدین کے موقوں پر اچکن پگڑی شلوار پہنتے۔ملک صاحب موصوف نہایت ستھری عادات کے مالک تھے۔صفائی کا بے حد خیال رکھتے تھے۔سب سے بڑا کمال یہ تھا کہ سفر ہو یا حضر نماز عین وقت پر نہایت خشوع و خضوع سے ادا کیا کرتے۔