تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 684
تاریخ احمدیت۔جلد 23 684 سال 1966ء ملک صاحب خاں نون ڈپٹی کمشنر تھے۔ملک صاحب خاں نون نے اس وقت کے رواج کے مطابق میٹرک چیفس کا لج ( جسے آج کل ایچی سن کالج کہتے ہیں) سے پاس کیا اور اپنی خاندانی وجاہت کے پیش نظر ایکسٹرا اسٹنٹ کمشنر بھرتی ہوئے۔سب سے پہلی تقرری گورداسپور میں ہوئی۔ٹرینگ کے سلسلہ میں ایک دن قادیان کا دورہ تھا۔حضرت (خلیفہ ایسح الاول ) مولانا نور دین صاحب سریر آرائے خلافت تھے۔حضرت کے اور نون خاندان کے بوجہ ہم وطنی قدیم اور گہرے مراسم تھے۔سعادت از لی ملک صاحب کو کشاں کشاں حضرت کے مطب میں لے گئی۔سلام عرض کیا اور ایک طرف بیٹھ گئے۔حضرت جب اور مریضوں سے فارغ ہوئے تو ملک صاحب نے اپنا تعارف کرایا۔حضور بہت خوش ہوئے۔حضرت مولانا نے بہت دعائیں دیں جو ملک صاحب کی کامیابیوں کی ضامن ہوئیں۔میرے دریافت کرنے پر ملک صاحب نے مجھے بتایا کہ ہماری باتیں پنجابی میں ہوئی تھیں اور وہ بھی ضلع سرگودھا کی بولی میں۔عبدالرحمن شاکر صاحب مزید تحریر کرتے ہیں کہ تمبر ۱۹۳۴ء میں راقم الحروف رسالہ ” پیشوا دہلی میں حافظ سید عزیز حسن بقائی کے پاس ملازم تھا کہ یکا یک ایک دن مجھے حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب کا خط ملا کہ فور ملازمت چھوڑ کر میرے پاس گوجرانوالہ آجاؤ۔میں نے تمہاری ملازمت کا بند و بست ایک احمدی مجسٹریٹ کے پاس کر دیا ہے۔حضرت میر صاحب مجھے اپنے ہمراہ لے کر ملک صاحب خاں صاحب نون کے ہاں آئے اور فرمایا کہ ملک صاحب یہ میرا آدمی ہے ملک صاحب نے میرے شارٹ ہینڈ اور ٹائپ کا امتحان لیا اور اظہار اطمینان فرمایا۔آپ کا تبادلہ چکوال ہو چکا تھا۔جب ہم روانہ ہونے لگے تو حضرت ڈاکٹر صاحب الوداعی ملاقات کے لیے تشریف لائے۔ملک صاحب سے اجازت لے کر مجھے ایک طرف لے گئے اور فرمایا کہ جس جگہ تم جار ہے ہو وہاں لوگ تم کو بہت رشوت پیش کیا کریں گے۔تم مجھ سے وعدہ کرو کہ ایک پیسہ بھی قبول نہ کرو گے۔میں نے اپنے الفاظ میں اقرار کیا مگر حضرت میر صاحب فرمانے لگے کہ میری تسلی نہیں ہوئی۔میں نے عرض کیا کہ آپ کی تسلی آخر کس طرح ہوگی ؟ فرمانے لگے کہ میرے ہاتھ پر عہد کرو کہ تم کبھی بھی کسی حالت میں رشوت نہیں لو گے۔میں نے حضرت میر صاحب کا ہاتھ اپنے