تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 666
تاریخ احمدیت۔جلد 23 666 سال 1966ء میں رہائش پذیر رہے تھے۔اور اکٹھے نماز با جماعت ادا کرتے تھے۔766 آپ ڈاکٹری پاس کرنے کے بعد بر ما تشریف لے گئے اور ۱۹۴۵ء تک بر ما میں طبی خدمات بجا لاتے رہے۔اولاد بابر،جلال کرنل ڈاکٹر نورالدین صاحب، صلاح الدین صاحب فاتح ظہیر الدین صاحب بابر، جلال الدین اکبر صاحب 66 حضرت چوہدری محمد شریف باجوہ صاحب ولادت: ۱۸۹۵ء بیعت: ۱۹۰۷ء وفات: ۷ نومبر ۱۹۶۶ء حضرت نواب محمد الدین صاحب کے بڑے صاحبزادے تھے۔آپ کو اپنے والد بزرگوار سے پہلے احمدیت کی نعمت میسر آئی اور آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کرنے کا شرف حاصل ہوا۔آپ ایک مثالی احمدی وکیل تھے۔اور اپنی قانونی قابلیتوں سے ایک لمبے عرصے تک بنی نوع انسان اور خصوصاً جماعت احمدیہ کی شاندار خدمات بجالاتے رہے۔آپ نے چالیس سال تک جماعت مگیری کی امارت کے فرائض نہایت اخلاص اور قابلیت سے سرانجام دیئے۔آپ حضرت اصلح الموعود کے پہلے سفر یورپ میں شریک ہونے والے بارہ (۱۲) حواریوں میں سے ایک تھے۔آپ منٹگمری (ساہیوال) کے امیر جماعت تھے۔جماعت احمد یہ ساہیوال کی ترقی میں ان کا خاص دخل تھا۔اور اس جماعت کی پیدا کردہ اکثر جائیداد انہی کے رہین منت تھی۔آپ سچ یچ ولی تھے۔اخلاق حسنہ کا نمونہ ، خوش اطوار و خوش خصال، تقویٰ کی باریک راہوں کا خیال رکھنے والے، بے نمود و بے ریاء، انکسار، فروتنی اور تسلیم ورضا کے خوگر ، مرضیات الہی کے عاشق ، بـلـی من أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ کی عملی تصویر غریبوں کے غمگسار اور دوسروں کے جذبات واحساسات کا حد سے زیادہ خیال رکھنے والے تھے۔آپ خدا تعالی ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کے عاشق تھے۔خلفاء احمدیت سے آپ کی محبت وعقیدت کا رنگ بالکل نرالا ہوتا تھا۔آپ کو نہایت قریب سے دیکھنے والوں کی یہ شہادت ہے کہ آپ بہترین دوست شفیق ترین باپ، بلا کے ذہین و فہیم، پرلے درجے کے متقی اور پرہیز گار اور صحیح معنوں میں مردمومن تھے۔تمام شعائرِ۔