تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 657
تاریخ احمدیت۔جلد 23 657 سال 1966ء ہمدردی کو نمایاں طور پر محسوس کرتا تھا۔میں لکھ چکا ہوں کہ حضرت مولوی صاحب بہت دعا گو تھے۔جب وہ زیادہ چلنے پھرنے سے بوجہ بیماری معذور ہو گئے تھے۔تب بھی بکثرت دعائیں کرتے اور خطوط کے ذریعہ اپنے احباب اور رشتہ داروں کی دُعاؤں سے امداد فرماتے اور ان کی ہر خوشی اور مسرت میں ممکن حد تک شرکت فرماتے۔۔۔حضرت مولوی صاحب کی طبیعت میں خلوص اور وفا کا مادہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔اور نظام جماعت کی پابندی اور خلیفہ وقت کی دلی محبت اور پوری اطاعت کو آپ جزوایمان سمجھتے تھے۔ان حالات میں آپ کی وفات ایک عظیم قومی صدمہ ہے۔آپ کی وفات سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ۳۱۳ صحابہ میں سے آخری دو شمعوں میں سے ایک شمع بجھ گئی ہے۔آپ کی وفات سے ایسا وجود آنکھوں سے اوجھل ہو گیا جو اپنی ذات میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا کا ایک نشان تھا۔اولاد 40 محترمہ حمیدہ بیگم صاحبہ محترم عبد السلام صاحب محترمہ زبیدہ بیگم صاحبہ اہلیہ کرامت الله صاحب۔(راجہ برہان احمد صاحب مربی سلسلہ یو۔کے آپ کے نواسے ہیں۔محترم عبدالحئی صاحب، محترمہ امتہ الکئی صاحبہ بیگم حافظ عبدالغفور صاحب سابق مبلغ جاپان حضرت چوہدری محمد الہ داد صاحب ولادت : ۱۸۸۲ء A بیعت : ۱۹۰۱ء وفات : 9 جولائی ۱۹۶۶ء : :۹ 43 آپ نے مولوی شیخ عبداللہ صاحب ولد محترم شیخ عبدالحق صاحب مرحوم ساکن وڈالہ بانگر تحصیل گورداسپور کے ذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی۔خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر نہ ہو سکے۔۱۹۰۷ء میں جلسہ سالانہ کے موقع پر حاضر ہوئے۔ان کی حضور کی خدمت میں یہ حاضری ایک خواب کی بناء پر تھی۔آپ کے تین بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔بہت نیک مخلص اور دعا گو بزرگ تھے۔تبلیغ کا بے پناہ جوش رکھتے تھے۔اکثر وقت فریضہ تبلیغ کی ادائیگی میں گذرتا تھا۔غرباء پروری کا جذبہ خاص طور پر نمایاں تھا۔نہایت سادہ طبیعت کے مالک تھے۔ان کی زندگی کے آخری ایام کا یہ قابل تقلید واقعہ ہے کہ وفات سے تقریباً ڈیڑھ سال پیشتر انہوں نے حقہ نوشی چھوڑ دی۔یہ عادت انہیں بچپن سے تھی۔جوانی کی عمر میں کوشش کے باوجود اسے